صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 163 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 163

۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء البخاری جلد ٦ مثالوں سے نمایاں کیا گیا ہے۔صلصال کے ایک معنی بو دار سڑاند والا بھی کئے جاتے ہیں۔طبری نے یہ معنی مجاہد سے روایت کئے ہیں اور حضرت ابن عباس سے مَسنُون بمعنی مُستِنٌ ( بد بودار) مروی ہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۳۹) مذکورہ بالا معانی نقل کر کے امام بخاری نے صَرَّ اور صَرْصَرَ الْبَابُ کا حوالہ دے کر لفظ صلصال کے معنی وہ کئے ہیں جو اوپر بیان ہوئے ہیں اور انسان کی تدریجی تخلیق جو بالفعل ہوئی ہے اس کی تصدیق تاریخ ارتقاء بشری سے ہوتی ہے۔فَمَرَّتُ به : اس سے آیت سورۃ الاعراف کے مضمون فَلَمَّا تَغَشَّهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انسانی نسل جوڑے سے چلائی گئی۔پوری آیت یہ ہے : هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ، فَلَمَّا تَغَشْهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ : فَلَمَّا أَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ ) (الأعراف: ۱۹۰) وہ اللہ ہی ہے جس نے ایک ہی ( نوع) نفس سے تمہیں پیدا کیا اور اسی سے نفس بشری کا جوڑا بنایا تا وہ اس سے مل کر سکون پائے۔پس جب اس نے اپنی جورو کو اپنالیا تو وہ حاملہ ہوئی۔ایک ہلکا سا حمل لئے چلتی پھرتی رہی۔جب بو جھل ہوئی تو دونوں اپنے رب سے دعائیں کرنے لگے کہ اگر تو نے ہمیں تندرست بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔اس آیت کے بعد یہ مضمون ہے کہ جب ان کی مراد پوری ہوئی تو انہوں نے اپنے بچے کی پیدائش کے بارے میں غیر اللہ کو شریک بنایا۔اس مضمون کے تعلق میں عنوانِ باب کا یہ جملہ : فَأَتَمَّته - عورت نے ایام حمل پورے کئے اور حسب مراد صحت مند بچہ جنی۔اس کے بعد شیطان کے سجدہ کرنے سے انکار کا حوالہ ہے جس کا ذکر سورۃ الاعراف کی آیت قَالَ مَا مَنَعَكَ اَنْ لَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ (الأعراف: ۱۳) میں ہے۔فرمایا تجھے سجدہ کرنے سے کیا روک ہے، جب میں نے تجھے سجدہ کا حکم دیا تھا۔امام بخاری نے اس آیت کی شرح کرنے میں ابو عبیدہ کے قول کا حوالہ دیا ہے کہ ان لا تَسْجُدَ میں حرف نافیہ لا زائد ہے اور دونفیوں (مَنَعَ اور لا) - مثبت مفہوم پیدا ہوتا ہے۔انہوں نے لا کو حروف زوائد میں سے شمار کیا ہے اور اس شعر سے استدلال کیا ہے: وَتَلْحَيْتَنِي فِي اللَّهُو أَنْ لَّا أُحِبَّهُ وَلِلَّهُوِ دَاعٍ دَائِبٌ غَيْرُ غَافِلٍ بعض نے حرف کا کوزائد نہیں سمجھا۔بلکہ لفظ السجود کو مقدر کیا ہے۔اس صورت میں آیت کی تشریح یوں سمجھی جائے گی: مَا مَنَعَكَ مِنَ السُّجُوْدِ فَحَمَلَكَ عَلَى أَنْ لَّا تَسْجُدَ - ( فتح الباری جزء 4 صفحہ ۴۳۹) کوئی بھی صورت ہو مفہوم ایک ہی ہے اور یہ باب بطور تمہید ہے اور بعد ازاں حضرت آدم علیہ السلام اور دیگر انبیاء کی بعثت اور باقی بنی بشر سے ان کے امتیاز کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ جسمانی پیدائش کے اعتبار سے تو نوع بشر سے کوئی فرق نہیں لیکن روحانی اعتبار سے وہ نوع بشر سے بہت بلند و بالا ہیں۔اس لئے ذریت آدم میں سے ان کی پیدائش کا ذکر مقدم کیا گیا ہے پہلے دو ابواب میں متعدد آیات کے حوالے دے کر بتایا ہے کہ حضرت آدم بحیثیت خلیفہ اللہ کے مسجود ملائکہ ہیں اور یہی حیثیت انبیاء علیہم السلام کو حاصل ہے۔