صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 162
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۶۲ ٢٠ - کتاب احاديث الأنبياء عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسٍ انہوں نے ابو عمران جونی سے، ابو عمران نے حضرت يَرْفَعُهُ إِنَّ اللَّهَ يَقُوْلُ لَأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ انس سے روایت کی۔ وہ اس حدیث حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے ( آپ نے فرمایا ) کہ عَذَابًا لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ الله تعالى اس شخص سے جسے دوزخیوں میں سب سے شَيْءٍ كُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ ہلکا عذاب ہوگا پوچھے گا، جو کچھ بھی زمین میں ہے اگر فَقَدْ سَأَلْتُكَ مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ هَذَا تمہارا ہو تو کیا تم اسے دے کر اپنے تئیں چھڑا لو گے؟ وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ وہ کہے گا: ہاں ۔ (اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا: میں نے تو تم بِي فَأَبَيْتَ إِلَّا الشَّرْكَ۔ اطرافه: ٦٥٣٨، ٠٦٥٥٧ سے وہ بات چاہی تھی جو اس سے بہت ہی آسان تھی اور ابھی تم آدم کی پشت میں ہی تھے۔ یعنی یہ کہ تم میرا شریک نہ ٹھہرانا، مگر تم نے نہ مانا۔ شریک ہی ٹھہرایا۔ ٣٣٣٥ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ ۳۳۳۵ : عمر بن حفص بن غیاث نے ہمیں بتایا۔ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے ہمیں قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُرَّةَ عَنْ بتایا ، کہا : عبداللہ بن مرہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے مَّسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جان بھی ناحق ماری جاتی وَسَلَّمَ لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ ہے، اس کے خون کے وبال کا ایک حصہ آدم کے پہلے عَنِ ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِّنْ دَمِهَا بیٹے پر پڑتا ہے۔ کیونکہ وہی پہلا شخص ہے جس نے لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ۔ اطرافه: ٦٨٦٧، ٧٣٢١ قتل کرنے کی بناء قائم کی۔ تشریح : خَلْقَ آدَمَ وَذُرِّيَّتِهِ : اس باب میں لفظ صَلْصَال کے لغوی مفہوم کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ جس طرح گیلی مٹی سے شکل بنانے و سے شکل بنانے والا جیسے اس کو ڈھالے گا ، ویسے وہ ڈھلتی جائے گی اور جس طرح وہ عامل کا اثر قبول کرتی ہے اسی طرح انسان اپنی تخلیق میں اثر پذیر ہے اور مٹی کا برتن خشک ہو کر مکمل ہونے پر بجانے سے آواز دیتا ہے۔ عناصر عالم سے جو اضداد کی طبیعت رکھتے ہیں ، انسان میں بھی اسی قسم کا رد فعل ہوتا ہے جو اس کے اندر شعور انتباہ وجرات عمل پیدا کرنے اور اسے ایک ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف منتقل کرنے کا باعث - نے کا باعث ہے۔ صَلْصَال فعل کی اس خصوصیت کو