صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 8
صحيح البخاری جلد ٦ A ۵۹ - كتاب بدء الخلق پہلے باب میں پانچ روایتیں ہیں۔روایت نمبر ۳۱۹۱،۳۱۹ کیلئے دیکھئے کتاب المغازی، باب وفد بنی تمیم۔یہ بھی اختصار سے مروی ہے۔وفد بنی تمیم کے علاوہ بنو حمیر کا وفد بھی مدینہ میں آیا تھا جس کے سردار حضرت نافع بن زید تھے، ان کے ساتھ اہل حمیر کے اور شرفاء بھی تھے۔وفد بن تمیم میں حضرت عطارد بن حاجب دارمی، حضرت اقرع بن حابس دارمی ، حضرت زبرقان بن بدر سعدی ، حضرت قیس بن عاصم منقری وغیرہ تھے۔(السيرة النبوية لابن هشام قدوم وفد بنی تمیم جزء ۲ صفحه ۵۶۰ حضرت نافع بن زید رضی اللہ عنہ کے دریافت کرنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ یہ عالم موجود نہیں تھا۔ذات باری تعالی تھی جس نے ہر شئے پیدا کی۔كَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ سے یہ مراد نہیں کہ پانی پہلے سے موجود تھا۔یہ تصریح ہے: وَلَمْ يَكُنُ شَيْءٍ غَيْرُهُ اس کے سوا کچھ نہ تھا۔اس تعلق میں کتاب التوحيد، باب وكان عرشه على الماء بھی دیکھئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا مروی ہے: أَنْتَ أَلَا وَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ * اپنی تجلی سے جس کا نام عرش ہے پانی پیدا کیا اور عرش وہ مقام تنزیہہ ہے جہاں صفات الہیہ کامل تجلی سے جلوہ گر ہیں۔عرش کے لغوی معنوں میں بلندی و حیرت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔وہ مقام صفات الہیہ جہاں انسانی عقل و بصیرت کو رسائی نہیں اور عقل مبہوت رہ جاتی ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴ ۲۷ تا ۲۷۹- كَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ سے مراد یہ ہے کہ اس عالم کی ابتداء عرش و پانی سے ہوئی ہے۔پانی وجود کی پہلی شکل ہے جس سے کائنات عالم مختلف شکلوں میں متکیف و ظہور پذیر ہوئیں۔پیدائش عالم کے تعلق میں تو رات کا نظریہ یہ ہے کہ خدا نے کہا: روشنی ہو جا اور روشنی ہوگئی ( پیدائش بابا، آیت ۳) یعنی کلمہ شکنی سے عالم وجود پذیر ہوا۔قرآن مجید نے تمام کائنات عالم کو کلمات اللہ سے تعبیر کیا ہے۔چنانچہ زمین و آسمان کی پیدائش سے متعلق فرماتا ہے: قل الْحَمْدُ لِلهِ۔کہو تمام صفات کا ملہ اللہ ہی کی ہیں۔(جس ذات کا علم کامل ہو اور اس کی قدرت کامل ہو ) اور (الله الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى) وہ تمام صفات کا ملہ سے متصف ہو۔وہ کلمہ کن سے ہر شئے کو وجود میں لاسکتا ہے۔اسی وجہ سے کائنات عالم کلمات اللہ شار کی گئی ہیں۔اسی تسلسل میں فرماتا ہے : وَلَوْ أَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ هِ مَا خَلَقَكُمْ وَلَا بَعْتُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ (لقمان : ۲۹۲۸) اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں ان کی قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی اور اس کے علاوہ اور سات سمندر بھی سیاہی ہوں تو بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے۔اللہ یقیناً اپنی ہر صفت میں غالب اور بڑا پختہ کار ہے۔تمہاری پیدائش اور تمہارا زندہ کر کے اُٹھایا جانا صرف ایک نفس کی پیدائش کا سا کام ہے۔اللہ بہت ہی سنے والا اور بہت دیکھنے والا ہے۔مادی علوم کی بنیاد ساعت ، مشاہدہ اور تجربہ پر ہے۔اسی طرح روحانی علوم کی بھی۔عارف ربانی امام الزمان علیہ الصلوۃ والسلام اس راز کے بارے میں رقمطراز ہیں:۔(مسلم، كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب ما يقول عند النوم