صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 155
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵۵ ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ اور ابو العالیہ نے کہا: (یہ جو فرمایا) فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ رَّبِّهِ كَلِمَةٍ (البقرة: ۳۸) فَهُوَ قَوْلُهُ كَلِمَاتٍ یعنی آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھے، یہ کلمات حضرت آدم کی یہ دعا ہے: اے ہمارے رب ! رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا (الأعراف: ٢٤ ) ۔ ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہماری پردہ پوشی فرماتے ہوئے ہم سے درگزر نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو یقیناً ہم نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہونگے۔ فَأَزَلَّهُمَا (البقرة : ۳۷) فَاسْتَزَلَّهُمَا۔ ( يه جو فرمایا: ) فَأَزَ لَّهُمَا اس سے یہ مراد ہے کہ شیطان وَ يَتَسَنَّهُ (البقرة : ٢٦٠) يَتَغَيَّرُ ۔ اسن نے ان دونوں کو پھلانا چاہا ( اور ) لَمْ يَتَسَنَّهُ کے (محمد : ١٦) مُتَغَيِّرُ۔ وَالْمَسْنُوْنُ الْمُتَغَيِّرُ۔ معنی ہیں بگڑا نہیں۔ آسن کے معنی ہیں بگڑا ہوا ( اور حما (الحجر: ۲۷) جَمْعُ حَمْأَةٍ وَهُوَ غَيْرُ آسِن کے معنی غیر متغیر) مَسنُون کے معنی ہیں الطَّيِّنُ الْمُتَغَيِّرُ۔ يَخْصِفَ (الأعراف: ۲۳) متغیر اور حَمَاً جمع ہے حماۃ کی اور حماۃ وہ کیچڑ أَخْذُ الْخِصَافِ مِنْ وَرَقِ ہوتا ہے جو بد بودار ہو ۔ طَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا الْجَنَّةِ (الأعراف: ۲۳) يُؤَلِّفَانِ الْوَرَقَ مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ یعنی وہ دونوں اس باغ کے پتوں کو وَيَخْصِفَانِ بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ۔ ایک دوسرے سے چپکا کر اپنے آپ کو ڈھانپنے لگے۔ سَوْاتِهِمَا (الأعراف: ۲۸) كِنَايَةٌ عَنْ سَوْآتِهِما میں اشارہ ہے ان کی شرم گاہوں کی طرف۔ فَرْجَيْهِمَا وَمَتَاعٌ إِلى حِينٍ (البقرة: (۳۷) اور فرمایا: مَتَاعٌ إِلى حين - حین سے مراد یہاں (الأعراف: ٢٥) هَاهُنَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ روزِ قیامت تک ہے۔ عربوں کے نزدیک حین کا الْحِينُ عِنْدَ الْعَرَبِ مِنْ سَاعَةٍ إِلَى مَا لَا لفظ ایک گھڑی سے لے کر اس زمانہ تک بولا جاتا ہے يُحْصَى عَدَدُهُ قَبِيلُهُ (الأعراف: ۲۸) جو گنتی میں نہ آسکے۔ قبیلہ کے معنی ہیں ( شیطان کا ) جِيْلُهُ الَّذِي هُوَ مِنْهُمْ۔ گروہ جس میں سے وہ خود ہے۔ ٣٣٢٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۳۲۶: عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے معمر