صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 154
صحيح البخاری جلد 4 ۱۵۴ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمَّا عَلَيْهَا حضرت ابن عباس نے کہا: یہ جو آتا ہے لَمَّا عَلَيْهَا حافظ (الطارق (٥) إِلَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ حَافِظٌ یہاں لَمَّا کے معنی إِلَّا کے ہیں۔ترجمہ یوں ہوگا مگر ضرور اس نفس پر ایک نگہبان ( مقرر ) ہے۔فِي كَبَدٍ (البلد:٥) فِي شِدَّةِ خَلْقٍ فرمايا: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ ) فِي كَبَدٍ وَرِيَاشًا الْمَالُ وَقَالَ غَيْرُهُ الرِّيَاشُ کے معنی شدت خلق کے ہیں۔(یعنی پیدائش کے وَالرِّيْشُ وَاحِدٌ وَهُوَ مَا ظَهَرَ دوران اسے سخت حالتوں میں سے گزرنا پڑا) ریاش مِنَ الرِّبَاس۔کے معنی ہیں مال اور دوسروں نے کہا: ریاش اور دیش ایک ہی ہیں اور دیش کے معنی اس لباس کے ہیں جو ظاہر نظر آتا ہو۔مَا تُمْنُونَ (الواقعة: ٥٩) النُّطْفَةَ فِي مَا تُمْنُونَ سے مراد نطفہ ہے جو عورتوں کے رحموں میں تم ڈالتے ہو۔أَرْحَامِ النِّسَاءِ۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ إِنَّهُ عَلَى رَجْعِہ اور مجاہد نے کہا: آیت إِنَّهُ عَلَى رَجُعِهِ لَقَادِرٌ سے یہ لَقَادِرُ (الطارق : 9) النُّطْفَةُ فِي الْإِحْلِيل مراد ہے کہ وہ اس نطفہ کو ذکر میں دوبارہ لوٹانے پر ( قادر ہے۔(الَّذِي أَحْسَنَ) كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ س كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ (السجدة: ۸) فَهُوَ شَفْعٌ الله مراد ہے کہ ہر چیز کو جوڑا پیدا کیا گیا ہے۔آسمان بھی السَّمَاءُ شَفْعٌ وَالْوَتْرِ (الفجر: ٤) (زمین کا) جوڑا ہے اور طاق و یکتا اللہ عزوجل ہی کی عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (التين: ٥) ذات ہے۔أَحْسَنِ تَقویم سے مراد بہترین پیدائش فِي أَحْسَنِ خَلْقِ أَسْفَلَ سَفِلِينَ (التین: ٦) ہے اور پھر فرمایا: (ثُمَّ رَدَدْنَهُ) أَسْفَلَ سَفِلِينَ یعنی ہم نے اس کو پست ترین کر دیا۔سوائے ان کے جو إِلَّا مَنْ آمَنَ خُسْرٍ (العصر: ٣) ضَلَالٍ، ایمان لائے ہیں اور خُسر سے مراد گمراہی ہے۔پھر ثُمَّ اسْتَثْنَى فَقَالَ إِلَّا مَنْ آمَنَ استثناء کیا اور فرمایا مگر وہ لوگ جو ایمان لائے۔لازب (الصافات: ۱۲) لَازِمٍ تُنْشِتَكُمْ لا زب سے مراد چپکنے والی۔نُنشِتَكُمْ کے معنی ہیں (الواقعة: ٦٢) فِي أَي خَلْقٍ نَّشَاءُ نُسَبِّحُ جس پیدائش میں ہم چاہیں تم کو پیدا کرتے ہیں۔۔نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ کے معنی ہیں ہم تیری بڑائی بیان بِحَمْدِكَ (البقرة: ٣١) نُعَظِمُكَ۔کرتے ہیں۔