صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 153
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵۳ بالله العالم ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء ٦٠ - كِتَابُ أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ 0000000000 بَاب ۱ : خَلْقُ آدَمَ وَذُرِّيَّتِهِ آدم ( علیه صلوات اللہ ) اور ان کی اولاد کی پیدائش صَلْصَالٍ (الرحمن: ١٥) طِيْنٌ خُلِطَ صَلْصَال کے معنی ہیں گیلی مٹی جس میں ریت ملی ہوئی ہو اور وہ ایسی آواز دے جیسے مٹی کا برتن آواز دیتا ہے۔ بِرَمْلٍ فَصَلْصَلَ كَمَا يُصَلْصِلُ الْفَخَّارُ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ (صَلْصَال کے معنی) بد بودار وَيُقَالُ مُنْتِنٌ يُرِيدُونَ بِهِ صَلَّ کے ہوتے ہیں) اور ان کی مراد اس سے یہ ہے کہ یہ كَمَا يُقَالُ صَرَّ الْبَابُ وَصَرْصَرَ لفظ صَلَّ سے مشتق ہے (فَعُلَلَ کے وزن پر عِنْدَ الْإِخْلَاقِ مِثْلُ كَبْكَبْتُهُ يَعْنِي صَلْصَلَ ہے) جیسے (صَرَّ سے صَرْصَرَ ) کہتے كَبَبْتُه۔ ہیں صَرَّ الْبَابُ وَصَرْ صَرَ الْبَابُ) یعنی بند کرتے وقت دروازے سے آواز نکلی ۔ جیسے كَبُكَبتُهُ اور كببتہ ہے جس کے معنی ہیں میں نے اسے پچھاڑ دیا۔ فَمَرَّتْ بِهِ (الأعراف: ۱۹۰) اسْتَمَرَّ بِهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ یعنی حمل کو الْحَمْلُ فَأَتَمَّتْهُ أَلَّا تَسْجُدَ (الأعراف: ۱۳) اُٹھائے آسانی سے ادھر اُدھر چلتی پھرتی رہی اور اس أَنْ تَسْجُدَ ۔ طرح اس نے وہ مدت حمل و وضع کی جو مقرر ہے پوری کی ۔ (اور اس سورۃ میں فرمایا: مَا مَنَعَكَ الَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ یعنی سجدہ کرنے سے تو کیوں رکا جبکہ میں نے تجھے حکم دیا ( کہ آدم کو سجدہ کرو۔ ) وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: جب تیرے رب نے ملائکہ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ سے کہا میں اس زمین میں ایک جانشین بنانے ط خَلِيفَةً (البقرة: ٣١) والا ہوں۔