صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 153 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 153

صحيح البخاری جلد 4 ۱۵۳ بالله الحالي ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ٦٠ - كِتَابُ أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ بَاب ۱ : خَلْقُ آدَمَ وَذُرِّيَّتِهِ آدم (علیہ صلوات اللہ ) اور ان کی اولاد کی پیدائش صَلْصَالٍ (الرحمن: ١٥) طِيْن خُلِطَ صَلْصَال کے معنی ہیں گیلی مٹی جس میں ریت عملی ہوئی بِرَمْلٍ فَصَلْصَلَ كَمَا يُصَلْصِلُ الْفَخَارُ ہو اور وہ ایسی آواز دے جیسے مٹی کا برتن آواز دیتا ہے۔اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ (صلصال کے معنی ) بدبودار وَيُقَالُ مُنْتِنٌ يُرِيدُونَ بِهِ صَلَّ (کے ہوتے ہیں ) اور ان کی مراد اس سے یہ ہے کہ یہ كَمَا يُقَالُ صَرَّ الْبَابُ وَصَرْصَرَ لفظ صَلَّ سے مشتق ہے (فَعُلل کے وزن پر عِنْدَ الْإِخْلَاقِ مِثْلُ كَيْكَبْتُهُ يَعْنِي صَلْصَلَ ہے) جیسے (صَرَّ سے صَرْصَرَ ) کہتے ہین صَرَّ الْبَابُ وَصَرُصَرَ (الْبَابُ) یعنی بند کرتے وقت دروازے سے آواز نکلی۔جیسے كَبُكَبتُهُ اور حببتہ ہے جس کے معنی ہیں میں نے اسے پچھاڑ دیا۔كَبَيْتُهُ أَنْ تَسْجُدَ۔فَمَرَّتْ بِهِ (الأعراف: ۱۹۰) اسْتَمَرَّ بِهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ یعنی حمل کو الْحَمْلُ فَأَتَمَّتْهُ إِلَّا تَسْجُدَ (الأعراف: ۱۳) اُٹھائے آسانی سے ادھر ادھر چلتی پھرتی رہی اور اس طرح اس نے وہ مدت حمل و وضع کی جو مقرر ہے پوری کی۔(اور اسی سورۃ میں فرمایا: مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ یعنی سجدہ کرنے سے تو کیوں ر کا جبکہ میں نے تجھے حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔) وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: جب تیرے رب نے ملائکہ لِلْمَلَكَةِ إِنّى جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ سے کہا میں اس زمین میں ایک جانشین بنانے خَلِيفَةً - (البقرة: ٣١) والا ہوں۔