صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 152
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵۲ ۵۹ - كتاب بدء الخلق بیٹوں اور ان سے بارہ قبیلے پیدا ہونے کا ذکر باسلوب افسانہ نویسی اور کتاب بَدْءُ الْخَلْق میں کائناتِ عالم سے بڑی سے بڑی اور لطیف سے لطیف موجودات کا ذکر ترتیب سے چلتا اور ادنیٰ سے ادنی مخلوقات کے ذکر پر ختم ہوتا ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے کوئی شئے عبث نہیں۔ ہر شئے انسان کے لئے مفید اور کارآمد ہے جس پر خالق نے اسے قدرت تسخیر و تصرف دی ہے۔ وہ اس کے خیر سے متمتع اور اس کے شر سے محفوظ ہو سکتا ہے۔اسے موذی اشیاء کو ہلاک کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس کتاب کے بعد اور اس مضمون بَدءُ الْخَلْق کے تعلق میں آدم کی پیدائش اور ان کی ذریت میں سے اعلیٰ طبقہ یعنی انبیاء کا ذکر ہے۔ کتاب پیدائش مرتبہ احبار یہود اور کتب اناجیل مرتبہ حواری کا کتاب بدء الخلق مرتبہ امام بخاری سے مقابلہ کر کے دیکھا جائے تو ان کے درمیان فرق ظاہر ہو جائے گا ۔ کتاب پیدائش کا یہ فقرہ کہ خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی جتنا بھونڈا ہے، اس کے بیان کرنے کی حاجت نہیں ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کو خَالِقُ كُل شَيْءٍ، خَالِقُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، خَالِقُ الظُّلُمَتِ وَالنُّور قرار دیا گیا ہے۔ وہ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ہے جس کے نور کی تجلی کا ایک نمونہ انبیاء علیہم السلام کا وجود ہے جن میں نفخ روحانی کر کے صفات باری تعالیٰ کا مشاہدہ کرایا گیا ہے۔ تو رات کے مذکورہ بالا فقرہ سے بڑھ کر بھونڈا انجیل یوحنا کا یہ فقرہ ہے: جس ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔ یہی ابتدا میں خدا کے ساتھ تھا۔“ ( یوحنا، بابا، آیت ا تا ۳) اقدر سوفسطائیہ یہ فقرہ ہے، اسے کوئی منطق صحیح قرار نہیں دے سکتی۔ کیونکہ متکلم کے بغیر کلام کا وجود ناممکن ہے۔ سیدھا یہ کیوں نہ مان لیا جائے کہ ابتداء میں خَالِقُ كُلّ شَیءٍ کا وجود تھا جو صفت تکلم اور دیگر تمام صفات حسنہ سے متصف تھا۔ عیسائی صاحبان کی منطق اگر اپنی کتاب تک ہی محدود رہتی تو ہمیں زیادہ افسوس نہ ہوتا لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ ان کے مناد قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت كَلِمَةٌ مِنْهُ وارد شدہ دیکھ کر جہلاء کو دھوکا دیتے اور کہتے ہیں کہ دیکھا اسلام کی کتاب قرآن مجید نے بھی مسیح کو خدا التسلیم کر لیا ہے۔ ایک غیر منطقی قول جو اُن کے کسی حواری کا ہوگا، اسے اُٹھا کر اس کتاب مبین کے ایک فقرہ كَلِمَةٌ مِّنْهُ پر چسپاں کر دینا سوء تصرف ہے جس نے بار بار سیح کو (عبدا لله ) اللہ کا بندہ قرار دیا ہے اور جو مخلوق پرستی کی مذمت و بُرائی اور توحید باری تعالی سے بھری پڑی ہے۔ اور یہ فقرہ عربی زبان میں ہے جس کے معنی ہیں مسیح کی پیدائش اللہ کی ایک پیشگوئی تھی۔ لفظ كَلِمَة سے یوحنا کا قول مراد لینا اور قرآن مجید سے حضرت مسیح علیہ السلام کی خدائی ثابت کرنا مغالطہ اور فریب دہی کی بڑی عمدہ مثال ہے۔ جس سے سورۃ آل عمران کی آیت فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمُ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ (آل عمران : (۸) کا مفہوم بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب التفسير سورة آل عمران بابا۔ وہاں ترجمہ آیت اور شرح تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ 0000000000