صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 7 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 7

صحيح البخاری جلد ٦ کے ۵۹ - كتاب بدء الخلق دوسرے باب کا عنوان مَا جَاءَ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ ہے۔اس کے تحت متعدد آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان میں سے پہلی آیت میں سات آسمانوں اور سات زمینوں کی پیدائش کا ذکر ہے اور اس آیت سے سات زمینوں کا استنباط کیا گیا ہے۔باقی آیات وہ ہیں جن میں زمین سے متعلق بعض خصوصیات مذکور ہیں جن کی تفصیل ابھی بیان کی جائے گی۔تیسرے باب کا عنوان فِي النُّجُوم سے قائم کر کے ایسی آیات کی شرح کی گئی ہے جن میں سات آسمانوں اور ان کی وسعت اور خصوصیت کا ذکر ہے۔پیشتر اس کے کہ ان ابواب کی مندرجہ روایات کا مضمون بیان کیا جائے، خلق السموات کی شرح حسب آیات محولہ بالا پہلے بیان کرنا مناسب ہے۔سماء عربی زبان میں مطلق بلندی کو کہتے ہیں۔یہ نام معانی کی رو سے آسمان کے لفظ سے بالکل مختلف ہے۔آسمان فارسی نام ہے جس کے معنی ہیں چکی کی مانند۔یہ نام یونانی علم ہیئت کے اس تصور کی ترجمانی کرتا ہے جو آسمان کو ٹھوس وجود خیال کر کے چکی کی مانند چکر کھانے والا خیال کرتا تھا اور یہی قدیم خیال دیر تک ایرانیوں اور ہندوستانیوں وغیرہ اقوام کے ذہنوں پر غالب رہا اور اس خیال کے مطابق ان کی لغت میں نام وضع کئے گئے تھے۔لیکن عربی لغت اس تصور سے محفوظ رہی ہے اور فضائے عالم بالا کا نام سماء رکھا گیا۔جو سُمُو سے مشتق ہے جس کے معنی بلندی کے ہیں۔سات بلندیوں کا تصور جو قرآنِ مجید نے بیان کیا ہے وہ بہت ہی وسیع ہے۔فضائے بالا کو سات بلندیاں قرار دے کر ان میں سب سے نچلی اور قریب تر بلندی (یعنی السَّمَاءَ الدُّنْيَا ) سے متعلق فرماتا ہے : وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَهَا رُجُومًا لِلشَّيْطِينِ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِه (الملک (۶) کہ اس قریب ترین بلندی کو ہم نے چراغوں سے مزین کیا ہے اور اسے شیطانوں کے لئے پتھراؤ کا سبب بنایا ہے اور ان کے لئے جلنے کی سزا مقرر کر دی ہے۔شہب ثاقبہ ہر لمحہ کروڑوں کی تعداد میں فضائے دنیا سے گرتے اور زمینی زہریلے مواد کو راکھ بناتے ہیں اور فضائے زمین کو انسانی زندگی کے لئے قابل زیست بناتے رہتے ہیں۔شیطان کا لفظ ہر موذی اور مضر شئے پر اطلاق پاتا ہے۔جس طرح یادی طور پر یہ سلسلہ جاری ہے۔اسی طرح انسانی روح کو شیاطین سے محفوظ رکھنے کے لئے انبیاء علیہم السلام اور ان کے متبعین کے وجود جو روحانی طور پر شہب ثاقب ہوتے ہیں دنیا میں آتے رہتے ہیں۔یہ مفہوم ہے مذکورہ بالا آیات کا۔مادی اور روحانی دونوں سلسلے آپس میں مطابقت رکھتے ہیں۔چنانچہ مابعد کی آیات میں انبیاء کی بعثت کا ذکر ہے۔یہاں سورۃ ملک کی آیت کے حوالے سے صرف یہ بتانا مقصود معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید نے سات بلندیوں میں سے سماء الدنیا وہ بلندی قرار دی ہے جو ستاروں سے جگمگا رہی ہے۔باقی بلندیوں کی وسعت کا اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے۔سورۃ نوح کی محولہ بالا آیت اور سورہ ملک کی مذکورہ بالا آیات میں سات بلندیوں کا وصف طباقًا بیان کیا گیا ہے کہ اوپر تلے ایک دوسرے کے ساتھ کامل مطابقت رکھنے والے ہیں۔یعنی اس رحمانی خلق میں کوئی اختلاف نہیں۔ان میں ایک دوسرے سے پوری پوری موافقت ہے۔بار بار نظر ادھر اُدھر ڈالو کہیں بھی رخنہ نظر نہیں آتا۔یعنی نظام خلق ہر جہت سے مکمل ہے۔