صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 145 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 145

صحيح البخاری جلد ۲ الله ۵۹ - كتاب بدء الخلق ٣٣١٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۳۳۱۵ : عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ سے، عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمر رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خَمْسٌ مِّنَ الدَّوَابِ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جن کو کوئی محرم ہونے مُحْرِمٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ الْعَقْرَبُ وَالْفَارَةُ کی حالت میں بھی مار ڈالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ وَالْكَلْبُ الْعَقُوْرُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ۔ بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا، کوا اور چیل۔ طرفه: ١٨٢٦ ٣٣١٦ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ :۳۳۱۶ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید بْنُ زَيْدٍ عَنْ كَثِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کثیر سے کثیر نے عطاء سے، صلى الله عليه جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے رَفَعَهُ قَالَ خَمِّرُوا الْآنِيَةَ وَأَوْكُوا روایت کی۔ انہوں نے اس روایت کو آنحضرت ﷺ الْأَسْقِيَةَ وَأَجِيْفُوا الْأَبْوَابَ وَاكْفِئُوا تک پہنچایا ہے۔ آپ نے فرمایا: برتنوں کو ڈھانکے ☆ رکھو اور مشکوں کا منہ باندھو، دروازوں کو بند کرو اور صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِنَّ لِلْجِنِّ عشاء کے وقت گھروں سے باہر جانے سے اپنے انْتِشَارًا وَخَطْفَةً وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ بچوں کو روکے رکھو۔ کیونکہ جن پھلتے اور جھٹتے ہیں اور عِنْدَ الرُّقَادِ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا ہوتے وقت چراغ گل کیا کرو۔ کیونکہ چوہا بھی کبھی اجْتَرَّتِ الْفَتِيْلَةَ فَأَحْرَقَتْ أَهْلَ میں کھینچ کر لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا دیتی ہے۔ الْبَيْتِ۔ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَبِيْبٌ عَنْ ابن جریج اور حبیب نے عطاء سے روایت کرتے عَطَاءٍ فَإِنَّ لِلشَّيَاطِينِ۔ ہوئے جن کے لفظ کی بجائے شیطان نقل کیا ( اور کہا کہ وہ پھیلتے اور جھپٹتے ہیں۔) اطرافه: ۳۲۸۰، ٣٣٠٤ ، ٥٦٢٣، ٥٦٢٤، ٦٢٩٥، ٦٢٩٦ عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ ”الْعِشَاءِ“ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحہ ۱۹۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔