صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 145
صحيح البخاری جلد ٦ ۱۴۵ ۵۹ - كتاب بدء الخلق ،۳۳۱ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۳۳۱۵ عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے عبداللہ بن دینار عَبْدِ اللَّهِ بْن عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ سے عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمر رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ نے فرما یا: پانچ جانور ایسے ہیں جن کو کوئی محرم ہونے مُحْرِمٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ الْعَقْرَبُ وَالْفَارَةُ کی حالت میں بھی مار ڈالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔وَالْكَلْبُ الْعَقُوْرُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ۔بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا، کوا اور چیل۔طرفه: ١٨٢٦۔٣٣١٦ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ :۳۳۱۶ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید بْنُ زَيْدٍ عَنْ كَثِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کثیر سے، کثیر نے عطاء سے، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے رَفَعَهُ قَالَ حَمِّرُوْا الْآنِيَةَ وَأَوْكُوا روایت کی۔انہوں نے اس روایت کو آنحضرت سے الْأَسْقِيَةَ وَأَجِيْفُوا الْأَبْوَابَ وَاكْفِنُوا تک پہنچایا ہے۔آپ نے فرمایا: برتنوں کو ڈھانکے رکھو اور مشکوں کا منہ باندھو، دروازوں کو بند کرو اور صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِنَّ لِلْجِنِّ عَشا کے وقت گھروں سے باہر جانے سے اپنے انْتِشَارًا وَخَطْفَةً وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ بچوں کورو کے رکھو۔کیونکہ جن پھیلتے اور جھپٹتے ہیں اور عِنْدَ الرُّقَادِ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا سوتے وقت چراغ گل کیا کرو۔کیونکہ چوہیا بھی بھی اجْتَرَتِ الْفَتِيْلَةَ فَأَحْرَقَتْ أَهْلَ بھی کھینچ کر لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا دیتی ہے۔الْبَيْتِ۔قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَبِيْبٌ عَنْ ابن جریج اور حبیب نے عطاء سے روایت کرتے عَطَاءٍ فَإِنَّ لِلشَّيَاطِيْنِ۔ہوئے جن کے لفظ کی بجائے شیطان نقل کیا ( اور کہا کہ وہ پھیلتے اور جھپٹتے ہیں۔) اطرافه: ۳۲۸۰، ٣٣٠٤ ٥٦٢٣، ٥٦٢٤، ٦٢٩٥، ٦٢٩٦ محمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ " الْعِشَاءِ“ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه ۱۹۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔