صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 144 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 144

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۴۴ ۵۹ - كتاب بدء الخلق آئے تو الحمد للہ کہو اور ایک دوسرے کے لئے يَرْحَمُكَ الله کی دعا کرو۔ ہلال دیکھو تو دعا کرو، وغیرہ۔ ان امور میں سے گدھے کی آواز اور مرغ کی اذان بھی ہے۔ دنیاوی حکومت بھی اپنے وجود کو تسلیم کرانے کی غرض سے ایسی تدبیریں اختیار کرتی ہے جس سے رعایا کو احساس رہتا ہے کہ وہ کسی بالا طاقت کے سامنے جواب دہ اور قابل مواخذہ ہیں۔ روایت نمبر ۳۳۰۴ کی تشریح باب ۱۱ ( روایت نمبر ۳۲۸۰) کے تعلق میں گزر چکی ہے۔ شیطان کا اطلاق چور اور رہزن پر بھی آتا ہے۔ لفظ جن اور شیطان روایتوں میں مترادف و ہم معنی وارد ہوئے ہیں۔ روایت نمبر ۳۳۰۶ تا ۳۳۱۳ سے ظاہر ہے کہ انسان کو موذی جانور کو مارنے اور بے ضرر جانور کو زندہ رہنے دینے کی ہدایت ہے۔ وہ ان کا مسخر ہے، نہ ان کے زیر تسخیر اور ان کا پرستار ۔ مشرک قو میں سانپوں وغیرہ کو دیوتا سمجھ کر اُن کی پوجا کرتی تھیں اور ان کا مارنا بڑا پاپ سمجھا جاتا تھا۔ گرگٹ کی بھی پوجا ہوتی تھی ، اس لئے گرگٹ کو مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بَاب ١٦ : إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخِرِ شِفَاءً * ☆ تم میں سے کسی کے پینے کی چیز میں جب مکھی گر پڑے تو چاہیے کہ وہ اس کوڈ بودے کیونکہ اس کے دو پروں میں سے ایک میں بیماری ہے اور دوسرے میں شفاء وَخَمْسٌ مِّنَ الدَّوَابِ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ پانچ جانور موذی ہیں جو حرم میں بھی مارے جاسکتے ہیں ☆ ٣٣١٤ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ ۳۳۱۴: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ زُریع نے ہمیں بتایا ، (کہا: معمر نے ہم سے بیان کیا عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا انہوں نے زہری سے ، زہری نے عروہ سے، عروہ نے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہ نے خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ في صلى الله عليه وسلم بہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ پ نے فرمایا: الْفَارَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابُ پانچ جانور موذی ہیں جو حرم میں (بھی) مارے وَالْكَلْبُ الْعَقُوْرُ۔ طرفه ۱۸۲۹ جاسکتے ہیں۔ چوہا، بچھو، چیل، کوا اور کاٹنے والا کتا۔ یہ عنوان باب سرخسی کی روایت کے مطابق یہاں ہے جبکہ ابوذر کی روایت میں یہ اس سے اگلے باب کا عنوان ہے۔ دیکھئے فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۲۹، ۴۳۴)