صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 143
صحيح البخاری جلد ٦ ۱۴۳ ۵۹ - كتاب بدء الخلق Ь ط ہیں اور گنا ہوں اور شرارت اور اکل حرام میں دلیر فرماتا ہے : وَإِذَا جَاءُ وَكُمْ قَالُوْا آمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا يَكْتُمُونَ وَتَرَى كَثِيرًا مِّنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَأَكْلِهِمُ السُّحُتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ ، لَوْ لَا يَنْههُمُ الرَّبَّيُّونَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ) (المائدة : ۶۲ تا ۶۴) اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں حالانکہ وہ کفر ( ہی کے عقیدہ) کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور (پھر) وہ اس (عقیدہ) کے ساتھ (ہی) نکل گئے تھے اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں، اسے اللہ (سب سے بڑھ کر ) جانتا ہے اور تو ان میں سے بہتوں کو دیکھتا ہے کہ وہ گناہ اور زیادتی اور اپنے حرام کھانے کے (افعال کی طرف) دوڑ کر جاتے ہیں۔جو کچھ وہ کرتے ہیں، وہ یقیناً بہت برا ہے۔عارف (لوگ) اور علماء انہیں ان کے جھوٹ بولنے اور ان کے حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے ؟ جو کچھ وہ کرتے ہیں، وہ یقینا بہت برا ہے۔ان آیات کا سارا سیاق کلام ہی بتاتا ہے کہ وہ روحانی طور پر مسخ ہوئے تھے، نہ کہ اپنی شکلوں میں جیسا کہ کمزور روایتوں میں آیا ہے جن میں سے ایک کا ذکر امام ابن حجر نے اپنی شرح میں کیا ہے۔(دیکھئے فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۵۱ شرح کتاب احادیث الانبیاء، باب ۳۶) غرض اگر ان میں کوئی صحیح روایت بھی ہو تو وہ قرآن مجید کی مذکورہ بالا نص صریح کے مفہوم میں لی جائے گی۔روایت نمبر ۳۳۰، ۳۳۰۱، ۳۳۰۲ کے لئے دیکھئے کتاب الایمان تشریح روایات نمبر ۵۳٬۵۲٬۱۹ - اَهْلُ الْمَـدر کے معنی ہیں اهْلُ الحضر یعنی شہری لوگ جو مکانات میں سکونت رکھتے ہیں اور أَهْلُ الْوَبَر کے معنی ہیں اهْلُ الْبَادِيَةِ صحرا میں رہنے والے اور الْفَدَّادُون کے معنی ہیں ہل چلانے والے، زراعت پیشہ۔فَدَّان ہل وغیرہ آلات زراعت کو کہتے ہیں اور الْفَدِید کے معنی ہیں کرخت آواز اخفش کے نزدیک فَدَّادُون وہ لوگ ہیں جو ( فَدَافِد) صحراؤں اور جنگلوں میں رہنے والے ہوں۔الْإِيمَانُ يَمَانِ یعنی اہل یمن ایمان قبول کرنے میں سبقت کریں گے۔قَرْنَا الشَّيْطَان کے معنی ہیں جَانِبَا رَأْسِهِ - قَرُنُ الشَّيْطَانِ ضرب المثل ہے جس کا مفہوم خطائی کے نزدیک ایسے امور کا ظہور ہے جن کا انجام اچھا نہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۲۴ ، ۴۲۵) صِيَاحُ الدِّيَكَة : روایت نمبر ۳۳۰۳ کا مطلب یہ ہے کہ مرغ کی آواز سے رات کے اوقات کا علم صحیح طور پر ہو جاتا ہے۔اس کی اذان میں جو وقفے ہوتے ہیں، ان میں بھی اوقات کی صحت ہوتی ہے جو اسے طبعی ملکہ سے حاصل ہوتی ہے اور اس خاصہ فطرت میں وہ دوسرے جانداروں میں ممتاز ہے۔رؤیت ملک کا یہی مفہوم معلوم ہوتا ہے جس کی امر واقعہ سے تائید ہوتی ہے۔بھلائی کے تمام کام ملگی تحریکات کا نتیجہ ہیں۔مرغ کی اذان سے نماز کے اوقات کا علم ہوتا ہے۔گدھا عموماً شہوانی تحریک پر ہینگتا ہے، اس لئے اس کی آواز رؤیت شیطان کی طرف منسوب کی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حوادث سے ذکر الہی اور استغفار کی یاد دہانی کے لئے کام لیا ہے۔مثلاً چھینک