صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 142 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 142

۵۹- كتاب بدء الخلق صحيح البخاری جلد ۶ کے لئے ( کہ ہم نے ان لوگوں کو نصیحت کر دی تھی) اور تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔پس جب ان لوگوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو ان کو کی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو جو بُری باتوں سے روکتے تھے ، نجات دے دی اور جو لوگ ظالم تھے، انہیں ایک نہایت تکلیف دہ عذاب میں مبتلا کر دیا۔کیونکہ وہ اطاعت سے نکل رہے تھے۔پھر جب انہوں نے ان باتوں سے جن سے اُن کو روکا گیا تھا، باز آنے کی بجائے ان میں اور بھی ترقی کرنی شروع کی تو ہم نے ان کو کہا: ذلیل بندر ہو جاؤ۔جہاں تک اس آیت کی شرح کا تعلق ہے کہ بنی اسرائیل بندر اور سور بنا دیئے گئے تھے وہ ( کتاب احادیث الانبیاء زیر باب ۳۶) اپنے موقع پر بیان ہوگی انشاء اللہ۔اور بتایا جائے گا کہ کن معنوں میں مذکورہ مسخ وقوع پذیر ہوا۔اور جہاں تک گم شدہ قبائل بنی اسرائیل کے چوہوں کی شکل میں مسخ ہو جانے کا ذکر ہے تو اس بارہ میں مندرجہ ذیل امور مد نظر رہنے چاہئیں: (1) آیت وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ :(المائدة: (۶) کے تحت بخاری میں نہ حضرت ابو ہریرہ کی طرف منسوب شدہ روایت نقل کی گئی ہے اور نہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ والی روایت نقل کی گئی ہے۔(۲) حضرت کعب کا تکرار اس روایت کو مشکوک ظاہر کرتا ہے۔(۳) روایت معنئن ہے۔(یعنی حرف عَن سے مروی ہے جو سند کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ نہیں سمجھا جاتا ) (۴) حضرت ابو ہریرہ کی طرف جو بات منسوب کی گئی ہے کہ انہوں نے حضرت کعب کو جوابا کہا: أَفَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ ان سے اس جواب کی توقع نہیں کی جاسکتی۔کیونکہ وہ عیسائی قبیلہ دوس میں سے تھے اور ےھ میں اسلام میں داخل ہوئے۔قیاس یہی ہے کہ وہ تو رات سے لاعلم نہیں ہو سکتے تھے۔اور نہ یہ امر درست ہے کہ حضرت ابو ہریرہ تو رات کے واقعات بیان نہیں کرتے تھے۔خود صحیح بخاری میں ان کی بعض ایسی روایتیں ہیں جو تورات سے ماخوذ ہیں۔(۵) تورات میں بھی کہیں ذکر نہیں کہ بنو اسرائیل کا مفقود قبیلہ چوہوں میں مسخ کیا گیا۔علاوہ ازیں اس روایت کا مضمون فی ذاتہ ایسا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی شان رکھنے والی شخصیت کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی اور وہ روایت اتنی کمزور ہے کہ کتاب احادیث الانبیاء میں جہاں اس کے ذکر کا موقع ہے، وہ نظر انداز کی گئی ہے۔ایسی کمزور روایت کتاب بدء الخلق کے تعلق میں اندراج سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری یہ ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کہ اگر کسی مضمون کی ماہیت سمجھ میں نہ آئے تو خاموشی بہتر ہے۔جو بات اس باب کے تعلق میں قابل توجہ ہے، وہ صحابہ کرام کے ادب کا نمونہ ہے جو حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے اسوہ میں پیش کیا گیا ہے۔اس امر کے سوا باب کے نفس مضمون سے اس روایت کا بظاہر کوئی جوڑ معلوم نہیں ہوتا اور جن یہود کے بارے میں سورۃ المائدہ کی آیت مَنْ لَّعَنَهُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ (آیت نمبر ۶ ) وارد ہوئی ہے، ان مسخ شدہ بندروں اور خنزیروں اور عبادالطاغوت کی نسبت اس آیت کے بعد یہ بھی ذکر ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آتے اور کہتے کہ وہ مومن ہیں بحالیکہ وہ کافر