صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 141 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 141

صحيح البخاری جلد 4 IM ۵۹ - كتاب بدء الخلق ہیں۔ان روایتوں میں مخلوق کی تسخیر اور اس سے منفعت حاصل کرنے یا اس کی مضرت سے محفوظ رہنے کا ذکر ہے۔سوائے روایت نمبر ۳۳۰۵ کے، جس میں بنی اسرائیل کی ایک قوم کے گم ہونے اور اس کے چوہوں کی شکل میں مسخ ہونے کا ذکر ہے۔پہلے اسی روایت کا ذکر کیا جاتا ہے۔فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ: حضرت ابو ہریرہ کی یہ روایت ممکن ہے اور حضرت کعب کے بار بار حضرت ابو ہریرہ سے دریافت کرنے اور ان کے جواب پر آخر خاموشی اختیار کرنے سے سمجھایا گیا ہے کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے ، اس کی نسبت انکار کرنے سے خاموش رہنا مناسب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب بھی اسی بات کا تقاضا کرتا ہے۔بخاری کی روایت میں ہے کہ جب حضرت کعب نے حضرت ابو ہریرہ سے بار بار دریافت کیا کہ کیا تم نے یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے تو آخر حضرت ابو ہریرہ نے کہا: أَفَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ - امام مسلم کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: افَأُنْزِلَتْ عَلَيَّ التَّوْرَاة * یعنی کیا تو رات مجھ پر اتری تھی جو میں اس کی باتیں بیان کر رہا ہوں؟ یعنی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس روایت کو تورات کی بناء پر بیان نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ کہتے تھے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے۔امام ابن حجر اس روایت کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ غالباً حضرت ابو ہریرہ اور حضرت کعب دونوں کو حضرت ابن مسعودؓ کی اس روایت کا علم نہیں تھا جس میں آتا ہے کہ جو بنی اسرائیل بندر وسور بنا دیئے گئے تھے، ان کی نسل آگے نہیں چلی۔پس ان دونوں روایات کی موجودگی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ حقیقت بنی اسرائیل قوم مسخ ہو کر چو ہے بن گئی۔لیکن بعد میں (وحی الہی سے ) آپ پر انکشاف ہوا کہ ایسا نہیں۔گویا لَا أُرَاهَا إِلَّا الْفَأْرَ کا فقرہ انکشاف سے پہلے کا ہے۔اس بارے میں ابن قتیبیہ کہتے ہیں : إِن صَحْ هَذَا الْحَدِيثُ وَإِلَّا فَالْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ هِيَ الْمَمْسُوخُ بِأَعْيَانِهَا تَوَالَدَتْ - اگر حديث أنَّ اللهَ لَمْ يَجْعَلْ لِلْمَسْخِ نَسُلًا وَّلَا عَقْبا صحیح کبھی جائے تو مذکورہ بالا تاویل مناسب ہے، اور نہ مسخ شدہ بندروں اور خنزیروں ہی کی نسل ایک دوسرے سے پیدا ہونا ماننا پڑے گی۔ابن حجر لکھتے ہیں کہ حدیث مذکورہ صحیح ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۲۶) نیز اس تعلق میں کتاب احادیث الانبیاء، باب ۳۶ بھی دیکھئے جس کا عنوان ایک آیت ہے اور اس کے تحت کوئی روایت نہیں محولہ آیت یہ ہے: وَاسْتَلُهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ۔۔۔۔۔الأعراف: ۱۶۴ تا ۱۶۷) اور (اے رسول) ان (بنی اسرائیل ) سے اس بستی کے متعلق پوچھ جو سمندر کے کنارہ پر تھی۔جبکہ وہ (یعنی یہود ) سبت کے حکم میں زیادتی سے کام لیتے تھے جبکہ ان کی مچھلیاں ان کے سبت کے دن گروہ در گروہ آتی تھیں اور جس دن وہ سبت نہیں کرتے تھے، نہیں آتی تھیں۔اسی طرح ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کا امتحان لیتے تھے اور جب ان میں سے ایک گروہ نے ( دوسرے گروہ سے) کہا: تم کیوں اس قوم کو نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا سخت عذاب دینے والا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: تمہارے رب کے پاس عذر پیش کرنے (صحیح مسلم، كتاب الزهد والرقائق، باب في الفأر وأنه مسخ)