صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 6 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 6

صحيح البخاري - جلد 1 ۵۹ - كتاب بدء الخلق میں وارد ہوا ہے۔ شعر کا مطلب یہ ہے کہ تیری زندگی کی قسم میں نہیں جانتا اور مجھے بڑا خدشہ ہے۔ اس شعر میں أَو جَل وَجل کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۳۴۴) اسی طرح آیت مذکورہ میں أَهْوَنُ بمعنی هین اور هين ہے۔ یعنی بہت آسان ۔ سورۂ ق کی آیت أَفَعَيْنَا بِالْخَلْقِ الأَوَّلِ کا حوالہ بھی اسی مفہوم کی تائید میں پیش کیا گیا ہے اور اس آیت سے عزیز و حکیم کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ ہر حلقہ پیدائش اپنی نوعیت وصورت میں محکم ہے اور اپنی غرض کو بہتر سے بہتر شکل میں پورا کرنے والا ہے۔ سورہ ق کی محولہ بالا آیت یہ ہے : وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ ) (ق: ٣٩) اور یقینا ہم آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ وقتوں میں پیدا کر چکے ہیں اور ہمیں ان کی پیدائش سے کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی ۔ سلسلہ پیدائش بہتر سے بہتر صورت میں قائم و دائم ہے اور اپنی غرض وغایت پوری کر رہا ہے۔ اسی مفہوم کے تعلق میں بطور مزید تائید کے لفظ اطوار سے سورہ نوح کی ان آیات کا حوالہ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَوَاتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا وَاللَّهُ أَنْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ، ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا ه (نوح: ۱۴ تا ۱۹) تمہیں کیا ہے کہ تم وقار الہی کا پاس نہیں رکھتے۔ بحالیکہ اس نے تمہیں طرح طرح کے تغیرات سے پیدا کیا ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے سات بلندیاں پیدا کی ہیں۔ جو ایک دوسرے سے مطابقت رکھنے والی ہیں اور ان میں چاند کو نور کا ذریعہ بنایا ہے اور سورج کو ایک دیے کی حیثیت میں اور اللہ نے زمین سے تمہاری نشو و نما کی۔ پھر اسی میں تمہیں لوٹائے گا اور تم کو اسی سے نکالے گا۔ لفظ أَطْوَارًا جو یہاں وارد ہوا ہے اس کے معنی طَوْرًا كَذَا وَطَوْرًا كَذَا کئے گئے ہیں۔ یعنی کبھی اس حالت میں اور کبھی اس حالت میں۔ طور کے معنی ہوتے ہیں حالت ۔ ابن ابی حاتم اور طبری وغیرہ نے حضرت ابن عباس سے آیت مذکورہ کا یہی مفہوم نقل کیا ہے کہ تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت میں پیدا کیا ہے۔ یعنی نطفہ سے علقہ ۔ علقہ سے مضغہ - وعلى هذا القياس - ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۴۵) اس صورت میں پیدائش کی مزید تشریح کے لئے دیکھئے: ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم - روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحہ ۲۱۶ ، ۲۱۷ - جہاں آیت ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبْرَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ) (المؤمنون: (۱۵) { پھر ہم نے اسے ایک نئی خلقت کی صورت میں پروان چڑھایا ۔ پس ایک وہی اللہ برکت والا ثابت ہوا جو سب تخلیق کرنے والوں سے بہتر ہے۔} کی تفسیر بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ کس طرح سلسلہ پیدائش ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ جسمانی و روحانی دونوں قسم کی پیدائش کی ارتقائی صورت کی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے سورہ نوح کی آیات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان آیات میں جو اطوارا کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے دو معنے بتائے گئے ہیں۔ ایک معنی حالت تغیر کے اور دوسرے معنی اندازہ کے۔ کہتے ہیں عَدَا طَوْرَہ اپنے اندازے سے آگے نکل گیا۔ ان معنوں کی روسے مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا ، وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا کے یعنی ہیں تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی عظمت کا تمہیں پاس نہیں بحالیکہ اس نے تمہیں مختلف حالتوں اور اندازوں میں پیدا کیا ہے۔