صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 134
صحيح البخاری جلد 4 ۱۳۴ ۵۹- كتاب بدء الخلق الْحَيَّاتُ أَجْنَاسٌ : سانپوں کی کئی قسمیں ہیں۔ان میں سے چھ میں بیان کی گئی ہیں۔(۱) الْجان سپید پتلا سانپ۔(۲) الثعبان اژدھا۔(۳) الْأَفَاعِى جَمْعُ اَفعی مادہ سانپ۔(۴) الْأَسَاوِدُ کالا ناگ پھنتیر سانپ جو نہایت زہریلا ہے۔(۵) ذُو الطُّفْتَيْنِ وہ سانپ جس کی پیٹھ پر دو سفید دھاریاں ہوں اور 4 : الابر نیلے رنگ کا دُم کٹا سانپ۔اس کی دم چھوٹی ہوتی ہے۔ان دونوں سے متعلق مشہور ہے کہ ان کو دیکھنے سے انسان اندھا اور اسقاط حمل ہو جاتا ہے۔ابن خالویہ نے سانپ کی ستر (۷۰) مقسمیں شمار کی ہیں۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ ۴۱۹) یہ اور ہمچو تم کا ئنات جنات کے زمرے میں شمار ہے۔زہریلے سانپ کے قتل کرنے کی نسبت حکم الگ ہے اور بے ضرر سانپ قتل کرنے کی ممانعت الگ۔پہلا حکم علی الاطلاق ہے۔اس لئے حضرت عبد اللہ بن عمر ہر سانپ کا قتل کرنا ضروری سمجھتے تھے۔حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ غلط فہمی دور کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے ارشاد سے انہیں آگاہ کیا۔عنوان باب سے اس روایت کا تعلق محولہ بالا آیات کے ضمن میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انواع و اقسام کی مخلوقات زمین و آسمان میں پیدا کی ہیں اور وہ نفع ونقصان کے اعتبار سے کلیڈ اس کے قبضہ قدرت و تصرف میں ہیں۔انسان کو جو اشرف المخلوقات ہے، ان پر مسخر کیا گیا ہے۔کوئی مخلوق ایسی نہیں جس کے قبضہ قدرت میں انسان کی تسخیر ہو۔یہ خیال باطل اور نص صریح کے خلاف ہے کہ فلاں کو جن چمٹ گئے ہیں یا فلاں شخص مسخر جنات ہے اور وہ لوگوں کو جنوں کے ذریعہ سے نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے۔فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ : روایت نمبر ۳۲۹۹ میں باب کی ان روایات سے متعلق ایک سند کی اصلاح کی گئی ہے۔مسند عبد الرزاق میں یہی روایت معمر سے بسند زہر کی شک کے ساتھ مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا کہ میں ایک دن ایک سانپ کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ اسے مارڈالوں تو حضرت ابولبابہ یا حضرت زید بن خطاب نے دیکھائے شک کے ساتھ روایت کرنے والے یونس بن یزید ، سفیان بن عیینہ، اسحاق کلبی اور زبیدی بھی ہیں۔امام مسلم نے یونس کی شک والی روایت نقل کی ہے اور امام احمد بن حنبل اور حمیدی نے اپنی مسندوں میں مشار الیہ روایت سفیان بن عیینہ سے نقل کی ہے اور امام مسلم مکہ نے اور ابو داؤد کےنے بھی اسے موصول نقل کیا ہے۔صحیح مسلم کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ - محمد بن وليد حمصی زبیدگی کے یہ الفاظ ہیں جو صحیح مسلم میں موصولاً مروی ہیں : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَكُنْتُ لَا أَتْرُكُ حَيَّةً آرَاهَا إِلَّا قَتَلْتُهَا ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۲۰، ۴۲۱) وَقَالَ صَالِحٌ وَابْنُ أَبِى حَفْصَةَ وَابْنُ مُجَمِّع۔۔۔: ان تین راویوں نے بیان کیا کہ حضرت (مصنف عبد الرزاق، كتاب أهل الكتابين باب قتل الحية والعقرب، جزء ۱۰ ، صفحه ۴۳۴) (صحیح مسلم کتاب السلام باب قتل الحيات وغيرها) (مسند احمد، مسند عبد الله بن عمر، جزء ۲ صفحه ۹) (مسند الحميدي، أحاديث بن عمر، جزء ۲ صفحه ۲۷۹) سنن أبى داود، كتاب الأدب، باب في قتل الحيات)