صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 133 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 133

صحيح البخاری جلد ٦ ١٣٣ ۵۹ - كتاب بدء الخلق ذَوَاتِ الْبُيُوْتِ وَهِيَ الْعَوَامِرُ۔یعنی وہ سانپ جو گھروں میں رہنے والے ہوں۔اطرافه: ۳۳۱۱، ۳۳۱۳ ۳۲۹۹ : وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ ۳۲۹۹ اور عبدالرزاق نے معمر سے یوں روایت مَّعْمَرٍ۔۔۔فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ کی ہے۔حضرت ابولبابہ نے مجھے دیکھا یا حضرت الْخَطَّابِ۔وَتَابَعَهُ يُونُسُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ زيد بن خطاب نے۔اور معمر کی طرح یونس اور وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ وَالزُّبَيْدِيُّ۔وَقَالَ ابن عیینہ اور اسحاق کلبی اور زبیدی نے بھی کہا۔اور صالح اور ابن ابی حفصہ اور ابن مجمع نے زُہری صَالِحٌ وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ وَابْنُ مُجَمِّع سے، زہری نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمر عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ سے یوں روایت کی۔مجھے ابولبابہ اور زید بن خطاب فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ نے دیکھا۔تشریح: وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ: عنوانِ باب آیت وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ (البقرة : ۱۶۵) سے قائم کر کے اس کے تحت صرف ایک روایت (متعدد اسناد سے ) نقل کی گئی ہے اور اس کے علاوہ عنوان ہی کے ساتھ حضرت ابن عباس کا وہ قول ہے جو ابن ابی حاتم سے موصولاً مروی ہے۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۴۱۹) جو باب کی روایات کا مؤید ہے۔ان روایتوں سے پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ جنات کا اطلاق حشرات الارض پر فرمایا ہے۔مزید برآں اس سے آیات محولہ بالا کی شرح بھی ہوتی ہے۔ایک آیت یہ ہے: مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِلٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیم ) (هود: ۵۷) یعنی روئے زمین پر کوئی بھی چلنے والا ( جاندار ) ایسا نہیں کہ خدا اس کی پیشانی کو پکڑے ہوئے نہ ہو۔میرا رب یقیناً ( مومنوں کی مدد کرنے کے لئے ) سیدھی راہ پر کھڑا ہے۔دوسری آیت یہ ہے: أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمُ صفت ويَقْبِضُنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيره (الملک (۲۰) {ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : کیا انہوں نے پرندوں کو اپنے اوپر پر پھیلاتے اور سمیٹتے ہوئے نہیں دیکھا۔رحمان کے سوا کوئی نہیں جو انہیں روکے رکھے۔یقینا وہ ہر چیز پر گہری نظر رکھتا ہے۔} دونوں آیتوں کی مذکورہ بالا تغییر ابو عبیدہ سے مروی ہے۔(فتح الباری جزء۶ صفحہ ۴۱۹) مخلوق زمینی ہو یا آسمانی تمام خالق کے دست قدرت و تصرف میں ہے اور وہ اس کی مطیع ہے۔جب عربی زبان میں کہیں کہ نَاصِيَةُ فُلَانٍ فِي يَدِ فلان تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ فلاں فلاں کے قبضہ ملکیت و تصرف میں ہے اور جب عرب غلام آزاد کرتے تو اس کی پیشانی کے بال کاٹ دیتے اور یہ علامت ہوتی کہ وہ اب آزاد ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه ۱۸۸) عبداللہ بن ابی بیح کی سند سے صفت کے معنی بَسُطُ أَجْنِحَتَهُنَّ یعنی پروں کا پھیلانا ہی مروی ہیں۔جیسا کہ خود آیت میں اس لفظ کے انہی معنوں پر لفظ يَقْبِضْنَ دلالت کرتا ہے۔