صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 132 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 132

صحيح البخاری جلد 4 ۱۳۲ ۵۹ - كتاب بدء الخلق اخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا) (هود: ٥٧) فِي مِلْكِهِ ( اور سورۃ ہود میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر جانور کو اس کی چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔مراد یہ ہے کہ ہر وَسُلْطَانِهِ۔جانور اس کی حکومت اور سلطنت میں ہے۔وَيُقَالُ صفت (الملك: ٢٠) بُسُطٌ صفت کے معنی ہیں اپنے پروں کو پھیلایا ہوا ہے۔أَجْنِحَتَهُنَّ يَقْبِضْنَ (الملك: ٢٠) يَقْبِضُن اور پھر وہ ان کو سمیٹ لیتے ہیں۔يَضْرِ بْنَ بِأَجْنِحَتِهِنَّ۔۳۲۹۷ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۳۲۹۷ عبد اللہ بن محمد نے ہمیں بتایا۔ہشام بن حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوْسُفَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ انہوں نے زہری سے، زہری نے سالم سے، سالم سَمِعَ النَّبِيَّ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ رَضِيَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ منبر پر الْمِنْبَر يَقُولُ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا کھڑے لوگوں سے مخاطب تھے۔فرما رہے تھے: ذَا الطُّفْيَتَيْن وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ سانپوں کو مار ڈالو۔دوسفید دھاری والے اور دُم کئے الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ۔سانپ کو بھی مار ڈالو۔کیونکہ یہ آنکھ کی بینائی مٹادیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں۔اطرافه: ۳۳۱۰، ۳۳۱۲، ٤٠١٦ ۳۲۹۸: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَيْنَا أَنَا :۳۲۹۸ حضرت عبداللہ بن عمر) کہتے تھے۔ایک أُطَارِدُ حَيَّةً لِأَقْتُلَهَا فَنَادَانِي أَبُو لُبَابَةَ دفعہ میں ایک سانپ کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ اس کو مار ڈالوں کہ اتنے میں ابولبابہ نے مجھے آواز دی کہ اسے نہ مارو۔میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِ سانوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے کہا: الْحَيَّاتِ فَقَالَ إِنَّهُ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ آپ نے اس کے بعد گھر یلوؤں سے روک دیا ہے۔لَا تَقْتُلْهَا فَقُلْتُ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ