صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 131
صحيح البخاری جلد 4 شریح ۵۹- كتاب بدء الخلق وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ : ان آیات کا ترجمہ یہ ہے اور جب ہم جنوں میں سے کچھ لوگوں کو تیری طرف پھیر کر لے آئے جو قرآن سننے کی خواہش رکھتے تھے۔سو جب وہ ( مجلس تلاوت قرآن میں ) حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: چپ ہو جاؤ اور جب قرآن کی تلاوت ختم ہوگئی تو وہ اپنی قوم کی طرف واپس چلے گئے اور ان میں جا کر اسلام کی اشاعت شروع کر دی۔ان آیات میں اس بات کا ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنوں کا ایک وفد آیا۔پھر سورۃ الجن میں بھی ذکر آتا ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے قرآن مجید سنا۔سورۃ الجن کے نزول کا زمانہ ہجرت سے دو سال قبل بتایا جاتا ہے۔(عمدۃ القاری، کتاب مناقب الأنصار، باب ذكر الجن جزء ۱۶ صفحه ۳۰۹) اور سورۃ الاحقاف ان سات سورتوں میں سے ہے جن کا سرنامہ حم سے ہے اور ان کے نزول کا زمانہ سورۃ الجن سے پہلے کا ہے۔دونوں سورتوں کی آیات زیر شرح کا موضوع بالکل الگ الگ ہے۔ایک میں عیسائی عقیدہ ابنیت کا ذکر ہے اور دوسرے میں اسرائیلی وفد سے متعلق صراحت ہے کہ اس نے قرآن مجید سنا اور اپنے وطن میں واپس جا کر اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی۔افاغنہ و کشامرہ قوم سے متعلق اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں ہیں جنہیں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے موعود کل عالم حضرت خاتم الانبیاء کی بشارت دی اور یہ بھی تاریخ میں ہے کہ ان اقوام میں سے بعض نے جو افاغنہ تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا سن کر ایک وفد آپ کی خدمت میں بھیجا اور یہ بھی امر واقعہ ہے کہ بنی اسرائیلی لوگ فردا فردا نہیں بلکہ من حیث القوم اسلام میں داخل ہوئے۔ان حالات کے پیش نظر میری رائے میں سورۃ الاحقاف والی آیات میں مذکورہ قوم کی جماعت کے وفد کے آنے کا ذکر ہے۔امام بخاری کا سورۃ الاحقاف کی آیات کے لئے الگ باب قائم کرنے سے بھی یہی سمجھانا مقصود ہے کہ ان کا سورۃ الجن والی آیات سے تعلق نہیں۔دونوں کا الگ موضوع ہے۔ان آیات کے آخر میں لفظ مصرف کی لغوی تشریح بلا وجہ نہیں۔اس سے بتایا ہے کہ یہ آیتیں الگ ہیں۔بَاب ١٤ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اس زمین میں ہر قسم کے جاندار پھیلا دیئے ہیں (البقرۃ:۱۶۵) (لقمان: ۱۱) قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ التَّعْبَانُ الْحَيَّةُ حضرت ابن عباس نے کہا: شُعبان کے معنی نرسانپ الذَّكَرُ مِنْهَا يُقَالُ الْحَيَّاتُ أَجْنَاسٌ کے کئے جاتے ہیں اور سانپ کئی قسم کے ہیں۔جان الْجَانُ وَالْأَفَاعِي وَالْأَسَاوِدُ۔(سفید باریک) اور افاعي (زہریلے سانپ کی مادہ جس کا مفرد أفعى ہے ) اور أَسَاوِدُ (کالا ناگ جس کا مفرد أسود ) ہے۔