صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 5 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 5

صحيح البخاری جلد 4 تشریح: ۵ ۵۹ - كتاب بدء الخلق وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ : كِتَابُ بَدْءِ الْخَلْقِ یعنی پیدائش مخلوقات کی ابتداء سے متعلق کتاب۔بابا کی آیات محولہ اصل بنیاد قرار دی گئی ہیں۔صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں تمہید بابا سے شروع کی گئی ہے۔امام ابن حجر نے اپنی شرح میں ایسا ہی نسخہ مد نظر رکھا ہے جس میں ایک باب زیادہ ہے۔اس کتاب میں سترہ باب اور ایک سو ساٹھ مرفوع حدیثیں ہیں۔ان میں سے ۹۳ روایتیں مکرر ہیں مگر الگ سندوں۔سے یار ابواب کا عنوان قرآنِ مجید کی آیات سے باندھ کر ان کے مضمون کی مناسبت سے احادیث و حوالہ جات منقول ہیں۔تقسیم ابواب میں مندرجہ ذیل ترتیب ملحوظ ہے: اول خالق کائنات کی قدرت خلق، دوم زمین و آسمان کی پیدائش، سوم سیارگان، چہارم سورج و چاند، پنجم ہوائیں، ششم ملائکہ ہفتم جنت و نار، ہشتم ابلیس و جنات، نم زمینی ہر جاندار مخلوق جس کا ذکر قرآن وحدیث میں وارد ہوا ہے۔اس ترتیب سے نیز عنوانِ باب کی لفظی بندش مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللهِ تَعَالَى وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ، مَا جَاءَ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ اور فِي النُّجُومِ سے ظاہر ہے کہ اس کتاب میں پیدائش کا ئنات سے متعلق جو ذکر صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے، اسے محفوظ کیا گیا ہے اور پہلے باب میں سورہ روم کی مندرجہ ذیل آیت کا حوالہ دیا گیا ہے: وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۖ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأعْلَى فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الروم:۲۸) اور وہ وہی خالق ہے جو مخلوق کی ابتداء کرتا ہے اور پھر اسے بار بار دہراتا ہے اور یہ اس کے لئے بڑا آسان ہے اور اس پیدائش کے اعلیٰ سے اعلیٰ نمونے آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں اور وہ (خالق) عزیز اور حکیم ہے۔یہ آیت زمین و آسمان کی پیدائش اور انواع و اقسام مخلوقات کے ذکر میں ہے اور جامع آیت ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سلسلہ پیدائش کا اعادہ ایک حالت سے دوسری حالت میں ہمیشہ ہوتا رہتا ہے اور اس پیدائش کی غرض وغایت پختہ کاری ہے اور اس کی خلق کا حسن پیدائش کی صورت و حالت بدلنے کے ساتھ ساتھ نمایاں سے نمایاں ہوتا جاتا ہے اور اس کے اعلیٰ سے اعلیٰ نمونے زمین و آسمان میں موجود ہیں۔وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - عَزِیز کے معنی ہیں غالب اور حکیم کے معنی ہیں پختہ طور پر بنانے والا۔یعنی وہ ذات جس کے کام میں غرض و غایت اور اعلی درجہ کی پختگی و مضبوطی اور حسن پایا جاتا ہو۔دونوں صفتیں فعیل کے وزن پر ہیں اور فعِیل کا وزن صفت کے انتہائی درجہ پر دلالت کرتا ہے۔اسی آیت سے متعلق عنوان باب ہی میں ربیع بن خثیم اور حسن بصری کے حوالے سے بعض الفاظ کی تشریح کی گئی ہے۔دونوں اکا بر علماء میں سے ہیں۔اول الذکر کوفہ کے مشہور عالم ہیں۔أَهْوَنُ اگرچہ اَفْعَلُ التَّفْضِيل کا صیغہ ہے۔مگر اس سے ایک پیدائش کا دوسری پیدائش سے آسان تر ہونے کا مفہوم بیان کرنا مراد نہیں بلکہ صیغہ افعل التفضیل کبھی کسی امر کے انتہائی صورت پر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔جسے اللهُ أَكْبَرُ میں صفت أَكْبَرُ جو افعل کے وزن پر اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔صفت کبریائی کی انتہاء مقصود ہے۔آیت وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ سے یہ مراد نہیں کہ اعادہ خلق اس کی ابتداء سے زیادہ آسان ہے۔بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ دونوں باتیں ابتدائے خلق اور اعادہ خلق خالق کے لئے بڑے ہی آسان ہیں۔امام ابن حجر نے اس کی وضاحت کے لئے شعر لَعَمُرُكَ مَا أَدْرِي وَإِنِّي لَارُ جَل کا حوالہ دیا ہے۔جہاں افعل صیغہ تفضیل وَجل کے معنوں