صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 130 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 130

صحيح البخاری جلد ٦ ۵۹ - كتاب بدء الخلق ذات باری تعالیٰ کو مشرکانہ خیالات باطلہ سے منزہ ٹھہرایا اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے قربت کا تعلق صرف اللہ کے ان بندوں کو ہے جو شیطان کی کڑی آزمائشوں سے پاک وصاف اور نقائص سے کندن کئے گئے ہیں۔پھر فرماتا ہے : وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ ) (الصافات : ۱۵۹) بندگانِ خدا کے سوا جو بھی متمرد اور سرکش لوگ ہیں، انہیں بار بار کی سزاؤں سے یقینا علم ہو چکا ہے کہ جناب الہی کے حضور وہ جوابدہ اور قابل مواخذہ ہیں۔ان آیات کے آخر میں فرماتا ہے: اے مشرکو ! تم اور وہ جن کی تم پوجا کرتے ہو صرف انہی لوگوں کو گمراہ کر سکتے ہو جو جہنم میں خود پڑنا چاہیں۔(الصافات: ۱۶۲ تا ۱۶۴) اس سیاق کلام میں لفظ الْجِنَّة سے مراد ابلیسی صفت کا وہ سرکش گروه ہے جس کا ذکر سورۃ الانعام ، سورۃ الاعراف اور سورۃ الکہف وغیرہ میں گزر چکا ہے۔قرآن مجید اور زبان عربی کی اصطلاح کو چھوڑ کر مشرکین کے اوہام کو اختیار کرنا منشائے نصوص الہیہ کے خلاف ہے۔مجاہد کے حوالہ سے یہی بات ذہن نشین کرانا مد نظر ہے۔کیونکہ دو قول پہلو بہ پہلو ر کھے گئے ہیں تا اُن کا ایک دوسرے سے متباین نظر آئے۔قَالَ كُفَّارُ قُرَيْشِ الْمَلَائِكَةُ بَنَاتُ اللهِ وَأُمَّهَاتُهُمْ بَنَاتُ سَرَوَاتِ الْجِنِّ - کفار کے اس قول کے مقابل میں اللہ تعالیٰ کا قول مذکور ہے۔یہ دونوں اقوال ایک دوسرے سے الگ اور ضِد ہیں۔فریابی نے مجاہد کا قول عبد اللہ بن ابی نجیح کی سند سے نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۴۱۷) اس تعلق میں سورۃ بین کی آیت کا حوالہ بلا وجہ نہیں۔اس سے سورۃ الصافات کی آیات کا مفہوم پوری وضاحت سے عیاں ہو جاتا ہے۔فرماتا ہے : وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ الهَةٌ لَّعَلَّهُمْ يُنْصَرُونَ ، لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَهُمْ " وَهُمْ لَهُمْ جُندٌ مُحْضَرُونَ ، (یس : ۷۵ ۶ مذکورہ بالا آیت میں لفظ مُحْضَرُون سے مراد محاسبہ کے روز معبودان باطلہ کی حاضری اور جوابدہی ہے۔یہ محاسبہ کس صورت و شکل میں قائم ہوگا، اگلی آیات میں خلاق علیم کی نئی تجلی کا ذکر کیا گیا ہے جس کا ادراک و احاطہ اس دنیا میں ممکن نہیں۔بَاب ۱۳ : قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنَّ إِلَى قَوْلِهِ أو لَيْكَ فِي ضَلْلٍ مُّبِيْنٍ اللہ عزوجل کا یہ فرمانا: اور جب ہم نے تیری طرف جنوں کے ایک گروہ کی توجہ پھیری۔۔۔(الأحقاف: ۳۰ تا ۳۳) مَصْرِفًا (الكهف : ٥٤) مَعْدِلًا مَصْرِفًا کے معنی مَعْدِلًا ایک طرف الگ جگہ، جہاں۔صَرَفْنَا (الأحقاف : ۳۰) أَيْ وَجَّهْنَا۔وہ جاکر اس آگ سے ہٹ سکیں۔صَرَفْنَا کے معنی ہیں وَجَّهْنَا یعنی ہم نے متوجہ کیا ، بھیجا۔ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : { اور انہوں نے اللہ کے سوا معبود اپنا رکھے ہیں شاید کہ وہ (ان کی طرف سے) مدد دیے جائیں۔وہ اُن کی مدد کی کوئی استطاعت نہیں رکھیں گے جبکہ وہ تو ان کے خلاف (گواہی دینے کے لیے ) حاضر کیے گئے لشکر ہوں گے۔}