صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 129
صحيح البخاری جلد ٦ ۱۳۹ ۵۹ - كتاب بدء الخلق کا ذکر بھی اسی سورۃ کے آخری رکوع میں ہے کہ اسلام کی دعوت توحید غیر قوموں میں مقبول ہوگی۔جس کے لئے اللہ تعالیٰ ایک پیغام رساں کا انتخاب فرمائے گا۔فرماتا ہے کہ جب یہ قومیں وہ بات دیکھیں گی جس سے انہیں انذار کیا جارہا ہے تو اس گھڑی انہیں اپنی بے بسی اور کمزوری کا علم ہوگا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قُلْ إِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ مَّا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُ ربي آمَدًا (الجن: ۲۶ ) لوگوں کو کہ دو کہ مجھے علم نہیں کہ یہ وعدہ کی گھڑی قریب ہے یا اللہ نے اس کے لئے ایک لمبی مدت مقرر کی ہے۔یہ وحی الہی کا مخصوص پیرا یہ بیان دونوں زمانوں کو شامل رکھتا ہے۔اس طرز کا شاہانہ اسلوب بیان ( حرف او سے ) قرآن مجید میں کئی جگہ وارد ہوا ہے۔دیکھئے سورۃ الانبیاء آیت ۱۰۹ تا ااا ، سورۃ الاحقاف آیت ۹ ، سورۃ الاحزاب آیت ۶۴ ، سورۃ الشوریٰ آیت ۱۸۔دور والی میعاد وہی ہے جس کا ذکر دانیال بابے کی پیشگوئی میں بایں الفاظ ہے:- میں نے رات کی رؤیا میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص آدم زاد کی مانند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا اور قدیم الایام تک پہنچا۔وہ اسے اس کے حضور لائے اور سلطنت اور حشمت اور مملکت اسے دی گئی۔تاکہ سب لوگ اور اُمتیں اور اہل لغت اس کی خدمت گزاری کریں۔اس کی سلطنت ابدی سلطنت ہے جو جاتی نہ رہے گی اور اس کی مملکت لازوال ہوگی۔" ( دانی ایل، باب ۷، آیت ۱۳ ۱۴) عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًان (الجن: ۲۸،۲۷) میں اَلْغَیب سے مراد اسلام سے متعلق وہ مہتم بالشان پیشگوئیاں ہیں جو انبیاء بنی اسرائیل کے ذریعے سے ہوئیں اور ان کا وعدہ قرآن مجید میں کیا گیا اور امت محمدیہ کے ہر مجدد زمانہ کے ذریعے سے وقتا فوقتا ان کی وضاحت اور یاد دہانی ہوتی رہی ہے۔لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَتِ رَبِّهِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا ه (الجن : (۲۹) تا اس کا علم ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام ربانی پیغامات پایہ تکمیل کو پہنچائے گئے۔اور وہ اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو اُن کے پاس ہے اور اُس نے ہر چیز کا گنتی کے لحاظ سے شمار کر رکھا ہے۔سورۃ الجن کا یہ خاتمہ کتنا عظیم الشان ہے۔بشرطیکہ زبان عربی اور اسلام سے متعلق تمام پیشگوئیوں کا علم رکھتے ہوئے اس کے سیاق و سباق پر غور کیا جائے ، ورنہ پڑھنے والا آیت اَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبِ أَقْفَالُهَا (محمد:۲۵) کا مصداق ہے۔امام بخاری نے جو باب قائم کر کے آیات وغیرہ کے حوالے دیئے اور احادیث نقل کی ہیں وہ در حقیقت کلید ہیں ان ابواب کی۔باب ۱۲ کے تحت مثلاً جو حدیث نقل کی ہے، اس کا تعلق دعوت تبلیغ اسلام سے ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ یہ ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کہ دعوت اسلام کو جتنا بلند کیا جائے گا، اسی قدر مختلف قومیں اسلام کی برکات سے فیضیاب ہوں گی۔روایت نمبر ۳۲۹۶ کے لئے دیکھئے کتاب الأذان، باب ۵ تشریح روایت نمبر ۶۰۹۔عنوان باب کے تحت ایک اور آیت کا حوالہ دے کر مجاہد کا قول نقل کیا گیا ہے جس سے ملائکہ اور جنات کی نسبت کفار قریش وغیرہ کا باطل عقیدہ نمایاں کرنا مقصود ہے۔(دیکھئے سورۃ الصافات آیات ۱۵۰ تا ۱۶۰) ان آیات کے آخر میں