صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 128
صحيح البخاری جلد ٦ ۱۲۸ ۵۹ - كتاب بدء الخلق ہے کہ جنوں میں سے کچھ لوگوں نے قرآن مجید کو غور سے سنا تو وہ کہنے لگے: ہم نے عجیب قرآن سنا جو راستی کی طرف رہنمائی کرتا ہے پس ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم ہر گز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔اور اللہ کی ذات اس سے بہت بالا ہے کہ وہ بیوی یا بچہ اختیار کرے۔ہم میں سے بیوقوف اللہ سے متعلق طرح طرح کی بے جا باتیں کہتے تھے۔ہمیں گمان نہ تھا کہ انس و جن اللہ کی شان کے خلاف جھوٹ باندھیں گے۔انسانوں میں سے بعض مرد جن مردوں کی پناہ لیتے تھے تو انہوں نے ان کو غلط روی میں بڑھایا اور انہیں یقین ہے جیسا تمہیں یقین ہے کہ اللہ کسی کو مبعوث نہیں کرے گا۔ان آیات کے سیاق سے ظاہر ہے کہ قرآن غور سے سننے والی یہ جماعت تثلیث پرست عقیدہ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔بنو آدم کے دونوں طبقے حاکم و محکوم میں سے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ وہ قرآن مجید کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھانے والے ہیں۔جیسا کہ نجاشی وغیرہ نے اٹھایا۔سورۃ الجن کا نزول طائف سے واپسی اور ہجرت سے دو سال قبل ہوا، جبکہ ابوطالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئے تھے اور قریش کی مخالفت نہایت شدت اختیار کر چکی تھی۔آنحضرت عمے کو تسلی دی گئی کہ اگر آپ کی قوم قریش نہیں مانتی تو ایک غیر قوم مانے گی۔لفظ جن اجنبی قوم پر بھی اطلاق پاتا ہے۔بیت المقدس کی ہمسایہ غیر بنی اسرائیل قوموں عمالقہ وغیرہ کو بوجہ اجنبی ہونے کے حسن کہا جاتا تھا۔(سباء:۱۳) اس تعلق میں ملاحظہ ہو تواریخ ۲ باب ۲ آیت ۱۲ تا ۱۸۔انہی قوموں کے معماروں اور غوطہ خوروں کو سورۃ ص کی آیت ۳۸ میں شیطان کہا گیا ہے۔جیسا کہ ابھی بیان ہو چکا ہے۔لفظ شیطان یا جن سے نفوس متمردہ یا خبث رکھنے والے لوگ مراد ہیں نہ وہ کائنات جو نظروں سے اوجھل رہے اور قدماء عرب بھی غیر عرب اقوام پر لفظ جن کا اطلاق کیا کرتے تھے۔چنانچہ تاج العروس، قاموس اور لسان العرب وغیرہ کتب لغت میں لفظ جن کے ایک معنی معظم الناس کے درج کئے گئے ہیں یعنی لوگوں کا بڑا حصہ ہے لوگوں کی اکثریت سے مراد ما سوئی عرب ہیں۔بنی اسرائیل کے ہاں غیر اقوام کے لئے جن کا لفظ بولا جاتا تھا۔سورۃ الجن کی محولہ آیت سے عنوانِ باب کے موضوع ہی کی مزید تائید ہوتی ہے کہ غیر عرب عیسائی لوگوں کے ایمان لانے پر انہیں ٹیک بدلہ ملے گا۔ان کے ثواب میں کوئی کمی اس بناء پر نہیں ہوگی کہ وہ غیر قوم ہیں۔اس سورۃ میں ایک اہم پیشگوئی کا ذکر ہے جس کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متصل زمانے سے بھی ہے اور آپ کے مابعد دور زمانے سے بھی۔قریب زمانے سے یہ ہے کہ عیسائی اجنبی تو میں دعوت اسلام کو غور سے سنیں گی اور ایمان لائیں گی۔ہجرت مدینہ سے قبل بعض صحابہ کو قریش کے ناقابل برداشت ظلم وستم سے حبشہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔جہاں نجاشی کے دربار میں قرآن مجید پڑھا اور غور سے سنا گیا۔خود شاہ حبشہ نے تصدیق کی اور اس کے بعد مدینہ میں عیسائی وفد کا آنا اور اس کا اسلام سے متاثر ہونے کا واقعہ بھی تاریخ اسلام میں مشہور ہے۔علاوہ ازیں دور و نزدیک عیسائی قوموں میں مبلغین اسلام کو جو قبولیت حاصل ہوئی، یہ ایسا واقعہ ہے جس سے کوئی مؤرخ انکار نہیں کر سکتا۔مذکورہ بالا پیشگوئی آئندہ زمانہ میں پوری ہونے (سيره النبى لابن هشام أمر الجن الذين استمعوا له و آمنوا به، جزء اول صفحه (۴۲) (تاج العروس، باب التون فصل الجيم- جنن) (لسان العرب - جنن) (القاموس المحيط، باب النون فصل الجيم- جتن)