صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 127 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 127

۱۲۷ صحيح البخاری جلد ٦ ۵۹ - كتاب بدء الخلق تو معلوم ہوگا کہ ہر جگہ اس نے مختلف بھیسوں اور طریقوں سے بنو آدم کو دہشت زدہ کیا ہوا تھا اور انہیں مرعوب کر کے ان سے ناجائز فائدہ اُٹھاتا یا اسے ہلاک کرتا۔یہ کا ہن عربی ممالک میں شیاطین کے نام سے مشہور تھے لے (دیکھئے تشریح باب ۱۱) مشرکوں کے اسی باطل عقیدہ کارڈ آیت وَجَعَلُوا لِلهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوْا لَهُ۔۔۔(الأنعام : ۱۰۱) میں کیا گیا ہے۔ترجمہ اس آیت کا یہ ہے اور انہوں نے اللہ کے ساتھ جنوں میں سے شریک مقرر کئے ہیں۔حالانکہ اس ( یعنی اللہ ) نے انہیں پیدا کیا ہے اور انہوں نے اس کے لئے جھوٹے طور پر بغیر علم کے بیٹے اور بیٹیاں بنائی ہیں، وہ پاک ہے۔غرض سمجھا جاتا تھا کہ روحیں کائناتِ عالم میں پوشیدہ ہیں۔اس لئے لفظ الجن ان کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ابن ابی شیبہ نے صحیح سند سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک قول نقل کیا ہے کہ غیلان ( بھوتوں ) کا ان کے پاس ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ کوئی مخلوق اپنی طبعی شکل تبدیل نہیں کر سکتی۔یہ بھوت ان کے جادوگر ہیں جیسے تمہارے ہاں جادو گر ہیں۔اہل کلام کی بھی یہی رائے ہے کہ شکل وغیرہ تبدیل کرنے کی بابت جو قصے کہانیاں مشہور ہیں وہ قوت متخیلہ کا نتیجہ ہیں۔حضرت عمر نے فرمایا کہ جب تم ایسا دیکھو تو از ان دو۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۱۴، ۴۱۵) امام ابن حجر نے امام احمد بن حنبل اور حاکم کی ایک روایت بسند عکرمہ عن ابن عباس نقل کی ہے کہ خیبر سے ایک شخص نکلا جس کے پیچھے دو آدمی لگے اور ان دو آدمیوں کے پیچھے ایک تیسرا آدمی تھا۔جس نے انہیں روکا اور کہا کہ واپس آؤ اور اس کا پیچھا نہ کرو۔چنانچہ وہ لوٹ آئے۔یہ تیسرا آدمی اس شخص سے آکر ملا اور اس نے کہا کہ یہ دو شیطان تھے جو تمہارا پیچھا کرنا چاہتے تھے۔جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچو تو سلام عرض کرنا اور آپ سے کہنا: ہم اپنے صدقات جمع کر رہے ہیں۔اگر مناسب ہو تو ہم یہ صدقات آپ کو بھجوا دیں۔جب اس شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ماجرا بیان کیا تو آپ نے تنہا سفر کرنے سے منع فرمایا۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۱۶،۴۱۵) مشرکین عرب کے کا بہن بھی شیطان کہلاتے تھے لیے صحابہ کرام اگر فی الحقیقت خیالی جنوں اور ان کی تسخیر کو ماننے والے ہوتے تو امام بخاری باب ۱۲ کے تحت ان کی کوئی ایک روایت تو درج کرتے۔صرف آیات ہی پر اکتفا نہ کرتے۔مذکورہ بالا آیت وَخَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ (الأنعام: (۱۰) سے ظاہر ہے کہ یہ ارواح جنات سے متعلق مشرکین کا عقیدہ ایک خیالی تخلیق ہے جو ذہنی کمزوری کا نتیجہ تھی۔خَرَقَ کے معنی ہیں تَخَيْلَ۔اسی سے اخرق ہے جس کے معنی کمزور اور احمق ہیں۔ط سورۃ الانعام کی معنونہ آیت کے علاوہ عنوانِ باب ۱۲ میں بعض اور آیات کے حوالے بھی ہیں جو حسب ذیل ہیں : بَخْسًا۔اس لفظ سے سورۃ الجن کی آیت ۱۴ کی طرف اشارہ ہے : وَانَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدَى امَنَّا بِهِ ، فَمَنْ يُؤْمِنُ برَبِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقان (الجنّ : ۱۴) اور ہم نے تو جب ہدایت کا کلمہ سنا، اس پر ایمان لے آئے اور جو شخص اپنے رب پر ایمان لاتا ہے تو وہ نہ کسی نقصان سے ڈرتا ہے اور نہ کسی ظلم سے۔یہ سورت اس مضمون سے شروع ہوتی التحرير والتنوير لابن عاشور، تفسير سورة البقرة، آیت ۱۰۲، جزء اول صفحه ۶۲۹) (مسند أحمد بن حنبل، مسند بنی هاشم مسند عبد الله بن العباس، جزء اول صفحہ ۲۷۸) (المستدرك على الصحيحين، كتاب الجهاد، جزء ۲ صفحه (۱)