صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 126 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 126

۵۹ - كتاب بدء الخلق صحيح البخاری جلد ٦ لفظ جن کا اطلاق ایک اور قسم کی مخلوق کے لئے بھی قرآنِ مجید میں وارد ہوا ہے اور یہ وہ ناری طبیعت رکھنے والی مخلوق ہے جو نوع انسانی سے قبل اس زمین پر اس وقت آباد اور مسلط تھی جب یہ کرہ ارضی قطعہ نار سموم تھا اور نوع بشر کے لئے نا قابل رہائش۔یہ تیز وتند مزاج وحشی مخلوق جنگلوں اور غاروں میں چھپ کر اپنی زندگی گزارتی تھی۔فرماتا ہے : وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ ، وَالْجَانَّ خَلَقْنَهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُومِ (الحجر: ۲۸،۲۷) ہم نے انسان کو ایسی سرشت سے پیدا کیا ہے جو گارے کی مانند ہیئت تبدیل کرنے والی ہے اور ٹھونکنے سے آواز دیتی ہے اور انسان سے قبل ہم نے جان کو پیدا کیا، نار سموم ( آگ بگولہ ) سے پیدا کیا۔یعنی جو تند و گرم مزاج اور متوحش و سرکش تھا اور دور اول کی مخلوق تھا۔اور اس کے بعد دور ثانی کی مخلوق بشر تھا جس سے سلسلہ بنی آدم چلا۔اس آیت میں پہلے دور کی مخلوق آتش پارہ کے لئے جان کا لفظ اور مابعد کی آیت میں آدم علیہ السلام سے تعلق رکھنے والی مخلوق کے لئے بشر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔یہ دونوں دور ایک دوسرے سے متصل ہیں۔جہاں تک مشرکین کے اعتقاد کا تعلق ہے اس کے اعتبار سے قرآن مجید میں لفظ الجن ان معبودانِ باطلہ کے لئے بھی وارد ہوا ہے جن کی نسبت یہ سمجھا جاتا ہے کہ تمام کا ئنات عالم میں ان کا حلول ہے۔ان کے نزدیک ہر شئے حجر و شجر ، نار وریاح ، شمس و قمر اور کواکب السماء میں سے ہر کو کب میں ارواح نے بسیرا کیا ہوا ہے جو ان کے نفع و نقصان کی مالک ہیں۔ان اشیاء کے سامنے ماتھا ٹیکنے اور نذر و نیاز اور قربانی کی پیشکش سے ان کی خوشنودی حاصل ہوتی اور ان کی ناراضگی سے بچا جاتا ہے۔الجن کے معنی پوشیدہ۔خلاصہ یہ کہ ہر موقع محل کی مناسبت سے لفظ جن یا جان کا مفہوم لیا جائے گا نہ یہ کہ سیاق کلام سے آنکھیں بند کر کے ہر جگہ وہ خیالی کا ئنات جو قصے کہانیوں کا موضوع ہے۔تاریخ بشری کا یہ ایک مشترکہ سانحہ ہے کہ ہر ملک و قوم میں مذکورہ بالا تصور و عقیدہ کم و بیش ایک سا پایا جاتا ہے اور ان کی شکل و نام و تصرفات سے متعلق عالمگیر اشتراک تخیل ہے۔ہمارے ملک میں جو قصے کہانیاں مشہور ہیں، اس قسم کے قصے کہانیاں دوسری قوموں میں بھی ہیں۔جن بھوت پریت، بونے ، ڈائن اور چڑیل کے ناموں سے کون نا واقف ہے۔بچے اپنے باپ دادوں سے سنتے چلے آئے ہیں کہ یہ مخلوق اپنی شکلیں تبدیل کر لیتی ہیں۔کبھی کہتے ، بندر کی شکل اور کبھی النگور وسور کی شکل، کبھی انسان اور کبھی درندہ۔عربی ممالک میں بھی ان کے نام السعْلَاءُ وَالسّغُلَاةُ (جمع سَعَالَى)، غُولٌ وَغِيْلان اور قُطرُب وغیرہ ہیں۔انگریزی جاننے والے الفاظ Specter، Nymphs ،Ghosts Giant اور Spooks وغیرہ ناموں سے ضرور واقف ہوں گے۔افریقہ کے وسیع ممالک میں جنوں کے بیسیوں نام ہیں۔میکسیکو میں بھی اس غریب الاطوار خیالی کا ئنات کے مختلف نام تھے اور ان کے متعلق قصے کہانیوں سے ایک بات کا پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی انسان کے دشمن و ظالم طبع ہیں اور انہیں راضی کرنے کے لئے انہیں پو جا جائے اور ان کے لئے قربانی کی جائے۔بنی بشر میں سے بعض ان آفات بے درماں کی تسخیر پر قدرت رکھتے ہیں اور یہ کہ مسخر کرنے والے اکثر و بیشتر کاہنوں اور جادوگروں کا ٹولہ ہے جو قدیم سے ہر ملک میں پایا جا تار ہا ہے اور اگر اس ٹولے کی پس پردہ کارستانیوں کی تاریخ دیکھی جائے