صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 125
صحیح البخاری جلد 4 ۱۲۵ ۵۹- كتاب بدء الخلق اور ہم نے انسانوں اور جنوں میں سے سرکشوں کو اسی طرح ہر ایک نبی کا دشمن بنا دیا تھا۔ان میں سے بعض بعض کو دھوکا دینے کے لئے (ان کے دل میں ) برے خیال ڈالتے ہیں جو محض ملمع کی بات ہوتی ہے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔پس تو ان کو بھی اور ان کے جھوٹ کو بھی نظر انداز کر۔انبیاء علیہم السلام کی مخالفت اور تدبیریں کرنے والے طبقہ حاکم سے متعلق مذکورہ بالا آیات کے بعد فرماتا ہے: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكْبِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمُكُرُوا فِيهَا (الأنعام: ۱۲۴) اور ہم نے ہر ایک بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو ایسا ہی بنا دیا ہے۔( یعنی وہ اپنے بُرے اعمال اچھی شکل میں دیکھتے ہیں ) جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس ( بستی ) میں ( نبیوں کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں۔یہا کا بر اور شیاطین الانس والجن اعداء انبیاء بنی آدم ہی میں سے ہیں جو امر واقع ہے۔رہا لفظ جن کا اطلاق ایسی کائنات پر جو نوع بشر سے نہیں اور نظروں سے اوجھل ہے تو ان معنوں کی رو سے حشرات الارض، کیڑے مکوڑے، بچھو، سانپ اور جراثیم تمام ایسی مخلوقات بھی بوجہ پوشیدہ رہنے کے جن اور جان کہلاتی ہے۔خود قرآن مجید میں لفظ جان سانپ کے لئے وارد ہوا ہے۔فرماتا ہے : فَلَمَّا رَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَّلَى مُدْبِرًا ولَمْ يُعَقِّبُ (النمل: 11) جب موسیٰ نے اپنی لاٹھی کو دیکھا کہ وہ ایسے ہل رہی ہے جیسے کہ ایک چھوٹا پتلا سانپ تو وہ پیٹھ پھیر کر بھا گا اور پیچھے مڑکر نہ دیکھا۔حاکم اور ابن حبان کی روایتوں میں سانپ ، بچھو اور چو ہے جو حشرات الارض ہی کی قسم ہیں جان شمار کئے گئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۱۶) لید اور ہڈی کو طہارت میں استعمال کرنے کی جو ممانعت صحیح احادیث (مذکورہ کتاب الوضوء، باب ۲۱،۲۰) میں وارد ہوئی ہے، اس کی وجہ حضرت ابو ہریرہ کی روایت میں طَعَامُ الْجِنّ بتائی گئی ہے۔(دیکھئے کتاب مناقب الانصار، روایت نمبر ۳۸۶۰) یعنی یہ دونوں چیزیں جنوں کی خوراک ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ کیڑے مکوڑے اور دیگر حشرات الارض ان چیزوں کو فی الواقعہ کھاتے اور نگلتے ہیں۔یہ ہمارا آنکھوں دیکھا مشاہدہ ہے، اس کے خلاف خیال کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ ان چیزوں کو بطور خوراک استعمال کرنے والی کوئی اور کائنات از قسم بھوت پریت ہوگی جو جن کے نام سے موسوم ہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حشرات الارض پر لفظ جن کا اطلاق فرمایا ہے اور کیڑے مکوڑے، سانپ، بچھو بالعموم اپنے بلوں ہی میں چھپ کر اوقات گزارتے ہیں تو کیوں نہ لید اور ہڈی کھانے والے جن یہی مخلوق سمجھی جائے ، خصوصا جب لفظ جن کا استعمال اپنے لغوی معنوں کی رو سے ایسی مخلوق کے لئے بھی ہوا ہے۔اور بلحاظ موقع ومحل اور سیات کلام لفظ جن اور جان سے ایسی مخلوق ہی مراد لی جائے گی جن کے بارے میں ہمارا مشاہدہ ہے، نہ کوئی اور جسے ہم نہ جانیں نہ پہچانیں۔(صحيح ابن حبان كتاب التاريخ، باب بدء الخلق) (المستدرك على الصحيحين للحاكم، كتاب التفسير تفسير سورة الأحقاف)