صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 124
صحيح البخاری جلد ٦ ۱۲۴ ۵۹ - كتاب بدء الخلق قید خانوں میں بند کر دیئے جاتے تھے۔ ان قید خانوں کی یاداب تک بیت المقدس میں محفوظ ہے۔ جنہیں دیکھنے کا موقع مجھے اُن دنوں بار ہا ہوا جب میں عالمگیر جنگ عظیم اول کے دوران کلیہ صلاح الدین ایوبی میں تاریخ الادیان کا استاد تھا۔ قرآن مجید میں بھی متمرد سرش معمار جنوں کا ذکر بائیں الفاظ وارد ہوا ہے۔ وَالشَّيْطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصِ ، وَاخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِه (ص) : (۳۸ ،۳۹) اور ہم نے سلیمان کے لئے متمرد سرکش لوگوں کو بھی مسخر کر دیا تھا جو معمار و غوطہ خور تھے اور ان کے علاوہ کچھ اور تھے جو زنجیروں میں بندھے تھے۔ اس تعلق میں دیکھئے تشریح روایت نمبر ۴۶۱ نیز دیکھئے النهاية في غريب الأثر - جنن مذکورہ بالا بیان سے یہ غلط نہی پیدا نہ ہو کہ لفظ جن بنو آدم کے ماسوا کائنات پر اطلاق نہیں پاتا۔ آدمیوں کے علاوہ دوسری اجناس کے لئے بھی یہ لفظ وارد ہوا ہے۔ ہماری بحث کا تعلق باب کی محولہ بالا آیات سے ہے اور اس سے حضرت امام بخاری کا استدلال واضح کرنا مقصود ہے اور یہ امر ذہن نشین کرنا ہے کہ قرآن مجید میں انس کے ساتھ لفظ جن جہاں وارد ہوا ہے تو اس سے مراد وہ بنو آدم ہیں جو انسانوں کے سر پرست و مسخر طبقہ حاکم ہیں۔ وہ خود بھی احکام الہی سے سرکش ہیں اور اپنے ماتحتوں کو بھی روگرداں رکھتے ہیں۔ جیسا کہ سورۃ الرحمن جیسا کہ سورۃ الرحمن کی آیات کے ضمن میں امام بخاری کی الفاظ مِن مَّارِجٍ من نار سے متعلق لغوی تشریح بالوضاحت تمرد اور سرکشی پر دلالت کرتی ہے۔ (دیکھئے باب ۱۰) خلاصہ یہ کہ آیات باری تعالیٰ میں دونوں طبقے بنی آدم ہی کی نوع میں شمار کئے گئے ہیں اور دونوں ایک ہی شریعت کے مخاطب و مکلف ہیں اور دونوں کا انجام نافرمانی کی وجہ سے جہنم قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف ہی میں فرماتا ہے : وَلَقَدْ ذَ رَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بَهَا وَلَهُمُ أعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا ( وَلَهُمُ اذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بَهَا * أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَفِلُونَ ) (الأعراف : (۱۸۰) اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو ( رحمت کے لئے ) پیدا کیا ہے مگر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر جہنم کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ ان کے دل تو ہیں مگر ان کے ذریعہ سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں تو ہیں مگر ان کے ذریعہ سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان تو ہیں مگر ان کے ذریعہ سے وہ سنتے نہیں ۔ وہ لوگ چار پایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ۔ (اصل بات یہ ہے کہ ) وہ بالکل جاہل ہیں۔ اس آیت میں جن وانس دونوں کا نہ صرف انجام ایک ہی بتایا گیا ہے بلکہ ان کی خلقت ، صورت و شکل بھی ایک جیسی بتائی گئی ہے۔ دونوں کے آنکھ، کان اور دل ایک سے ہیں۔ یہ آیت بھی مثل سابقہ آیات کے اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہے۔ قرآن مجید میں جہاں بھی الفاظ جن وانس اکٹھے وارد ہوئے ہیں وہاں بنی آدم کی ذریت ہی مراد ہے۔ جنوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ کہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور انہی دونوں طبقوں میں سے انبیاء ورسل کے دشمن ہوتے ہیں۔ جیسا کہ فرماتا ہے : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِي عَدُوًّا شَيْطِيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِى بَعْضُهُمُ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا * وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ (الأنعام: ١١٣)