صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 123
۵۹ - كتاب بدء الخلق صحيح البخاری جلد ٦ مفروضہ کی اتباع ہے اور اس کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں۔آیت وَ كَذلِكَ نُوَلِى بَعْضَ الظَّلِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ) (الأنعام: ۱۳۰) { اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کر دیتے ہیں بسبب اس گسب کے جو وہ کرتے ہیں۔} سے دونوں طبقے احکام الہی کی نافرمانی کی وجہ سے ظالم قرار دیئے گئے ہیں اور دونوں ہی بعثت رسول کی وجہ سے مکلف بشریت اور اپنے اعمال کے لئے عند اللہ جوابدہ ہیں۔جیسے فرمایا: وَلِكُلِّ دَرَجَتْ مِمَّا عَمِلُوا وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ (الأنعام: ۱۳۳) { اور سب کے لیے جو انہوں نے عمل کیے ان کے مطابق درجے ہیں اور تیرا رب اس سے غافل نہیں جو وہ کیا کرتے ہیں۔} مذکورہ بالا سیاق کلام سے امام بخاری کا حسن انتخاب ظاہر ہے اور عنوانِ باب سے متعلق سوالات کا جواب محولہ بالا آیات میں موجود ہے۔طبقہ حاکمہ پر جن کا لفظ اس لئے اطلاق پاتا ہے کہ وہ ہر زمانہ میں حتیٰ کہ ہمارے زمانہ جمہوریت میں بھی پس پردہ رہ کر اپنے مقاصد انجام دینے کا عادی ہے اور یہ طبقہ بجائے احکام الہی کی پیروی کرنے اور منوانے کے اپنی طاغوتی حکومت کا جوا بنی نوع کی گردنوں میں ڈالتے ہیں۔اسی لئے ابلیس آدم کا شمار اسی طبقہ بشریہ میں کیا گیا ہے۔سورۃ الانعام کی آیات کے ہم معنی آیات سورۃ الاعراف میں بھی وارد ہوئی ہیں اور ان میں يُبَنِی آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمُ رُسُلٌ مِّنكُمُ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمُ انتى (الأعراف: ۳۶) { اسے ابنائے آدم ! اگر تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں جو تم پر میری آیات پڑھتے ہوں ) کے الفاظ سے خطاب شروع کر کے ظالموں کے لئے حکم الہی ان الفاظ میں صادر ہوا ہے : قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ فِي النَّارِ جن وانس کی جو ظالم امتیں پہلے گزر چکی ہیں انہی کے ساتھ آگ میں تم بھی شامل ہو جاؤ۔مذکورہ بالا خطاب یبنی آدم سے روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ جن وانس کے یہ دونوں ظالم طبقے بنی آدم ہی سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں ہی نافرمانی کی وجہ سے الہی سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ایک ظالم متکبر اور گمراہ کن گروہ اور دوسرا اس کے تابع۔اور ان آیات کا اختتام بھی انہی ہم معنی الفاظ میں ہے جن سے سورۃ الانعام والی آیات کا خاتمہ ہے۔فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمُ تَكْسِبُونَ ) (الأعراف: ۴۰) سزا چکھو باعث اپنے ظلم اور اپنی بد عملی کے۔ان آیات کے بعد کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ امام بخاری نے عنوانِ باب کے تعلق میں محولہ بالا آیات کا کس غرض سے انتخاب کیا ہے۔مجھے اس سے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔رہا یہ امر کہ لفظ جن زبان عربی میں انسانوں پر اطلاق پا تا رہا ہے یا نہیں؟ سو عربی لغت کی ہر بڑی اور چھوٹی کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے۔جِسَانُ الْجِبَالِ پہاڑی قوموں کو کہتے ہیں۔ان کی بود و باش ازمنہ قدیم میں متمدن آبادیوں سے منقطع اور روپوشی کی ہوا کرتی تھی۔یہ غیر متمدن وحشی قبائل عام طور پر وادیوں اور غاروں میں دن چھپ کر بسر کرتے اور رات کو نکلتے اور بھیس بدل بدل کر ہمسایہ آبادیوں پر یلغار کرتے تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے انہی وحشی پہاڑی قوموں کو مغلوب کر کے ان سے ہیکل کی تعمیر کرائی۔ان سے دن بھر محنت و مزدوری کا تعمیری کام لیا جاتا اور رات کو وہ