صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 122 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 122

صحيح البخاری جلد 4 ۱۲۲ ۵۹ - كتاب بدء الخلق آیات جن و انس کو ایک ہی نوع کے معاشرہ میں شامل رکھتی اور ایک ہی قسم کے حکم سے خطاب کرتی ہیں۔وہ آیات یہ ہیں: يمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ۔۔۔يَعْمَلُونَ) (الأنعام: ۱۳۱ تا ۱۳۳) اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا تم میں سے (ہی ) تمہارے پاس رسول نہیں آئے جو تمہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتے تھے اور تمہیں آج کے ون کی ملاقات سے ڈراتے تھے۔وہ کہیں گے کہ ہم اپنے خلاف (خود) گواہی دیتے ہیں اور اور لی زندگی نے انہیں دھو کے میں ڈال دیا اور انہوں نے اپنے خلاف (آپ یہ ) گواہی دی کہ وہ کافر تھے۔آیا ان آیات میں ایک ہی معاشرہ سے تعلق رکھنے والے دو گروہ ہیں یا غیر جنس ہیں؟ اس کی وضاحت سیاق کلام ہی میں ہے۔مذکورہ بالا آیات سے قبل یہ دو آیتیں ہیں : بمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِنَ الْإِنسِ۔۔۔بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ) (الأنعام: ۱۲۹ ۱۳۰) اے جنوں کی جماعت !تم نے انسانوں سے بہت کام لیا اور ان کے انسان مددگار کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہم نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا ہے اور ہم اپنی اس مدت کو پہنچ گئے ہیں جو تو نے ہمارے لئے مقرر کی تھی۔وہ فرمائے گا: آگ تمہارا ٹھکانہ ہے۔اس میں تم ایک لمبے عرصہ تک رہو گے۔سوائے اس کے کہ خدا کی مشیت کچھ اور چاہے۔یقینا تیرا رب صاحب حکمت ( اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کر دیتے ہیں بسبب اس گسب کے جو وہ کرتے ہیں۔} ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جن وہ طبقہ بشریہ ہے جو طبقہ انس کو اپنے زیر تکمین کئے ہوئے ہے جیسا کہ الفاظ وَقَالَ أَوْلِيَاءُ هُمْ مِّنَ الْإِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ سے ظاہر ہے۔ایک طبقہ دوسرے کا آقا دسر پرست ہے اور معاشرہ کے دونوں طبقے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور حاکم و محکوم، راعی و رعیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔اولیاء جمع ولي کی ہے اور ولی کے معنی علاوہ کارساز ، سر پرست ، دوست و مددگار اور حاکم کے بھی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلهِ الْحَقِّ (الكهف: ۴۵) کہ اس وقت حکومت اللہ الحق ہی کی ہے اور فرماتا ہے: وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَئِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ أَفَتَتَّخِذُوْنَهُ وَذُريَّتَةً أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّلِمِينَ بَدَلًا ه (الكهف: ۵۱) اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ تم آدم کے ساتھ (مل کر) سجدہ کرو۔اس پر انہوں نے ( تو اس حکم کے مطابق اس کے ساتھ ہو کر ) سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا) وہ جنوں میں سے تھا۔سو اس نے (اپنی فطرت کے مطابق ) اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔(اے میرے بندو!) کیا تم مجھے چھوڑ کر اس کو (یعنی شیطان کو ) اور اس کی نسل کو (اپنے) دوست بناتے ہو، حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔وہ ( یعنی شیطان) ظالموں کے لئے بہت ہی برا بدلہ ثابت ہوا ہے۔اس آیت کا سیاق بھی بڑا واضح ہے۔احکام الہی سے سرتابی کرنے والے، ابلیس اور اس کی ذریت کو اپنا سر پرست و حاکم بنانے والے جن و انس دونوں ایک ہی جنس بنی آدم ہیں اور دونوں ہی ظالم قرار دیئے گئے ہیں۔امر واقعہ کو چھوڑ کر ایسے جنوں کی تلاش کرنا جن کا سر پرستی اور حکومت کے اعتبار سے بطور مخاطب قطعا کوئی وجود نہ ہو۔صرف ایک خیالی ط