صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 121 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 121

صحيح البخاری جلد ٦ ۱۲۱ ۵۹ - كتاب بدء الخلق متمثل ہو سکتی ہیں۔جیسا کہ آنحضرت ﷺ کو دکھائی دیا گیا جو ایک مکاشفہ تھا۔(دیکھئے کتاب الصلاة، روایت نمبر ۴۶۱) اور یہ مکاشفہ پورا ہوا۔(سوم) آیا جن بھوت اپنے آپ کو مختلف شکلوں میں تبدیل کر سکتے ہیں؟ ابن ابی شیبہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس بارے میں ایک قول صحیح سند سے نقل کیا ہے کہ وہ اپنی طبعی شکل تبدیل نہیں کر سکتے۔(چهارم) اگر جن مکلف شریعت ہیں تو آیا ان میں رسول مبعوث ہوتے ہیں یا انسانی رسول ہی ان کے لئے مامور ہیں ؟ علامہ طبری نے بعض روایتیں نقل کی ہیں جن سے پایا جاتا ہے کہ عالم جنات میں جن رسول بھیجے جاتے ہیں۔جمہور کے نزدیک جن وانس کے رسول ایک ہی ہیں اور ان کا استدلال ان آیات سے ہے: وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ۔۔۔قَالُوا يَقَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتبًا أُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسَى مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَى طَرِيقِ مُسْتَقِيم 0 الأحقاف : ۳۰-۳۱) اور جب ہم نے تیری طرف جنوں میں سے کچھ لوگوں کی توجہ پھیر دی جو قرآن سننے کی خواہش رکھتے تھے انہوں نے اپنی قوم سے کہا: اے ہماری قوم ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد اتاری گئی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے اُتری ہیں ان کی تصدیق کرتی ہے اور حق کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ان آیات کے علاوہ بھی ابن حزم نے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن وانس کے لئے مبعوث ہوئے ہیں اور آپ کے سوا کوئی اور نبی نہیں جو یہ شان رکھتا ہو۔ابن تیمیہ کے نزدیک علماء سلف صحابہ، تابعین اور ائمہ المسلمین کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا دائرہ جن و انس پر محیط ہے۔اس بارہ میں بزار سے یہ حدیث نبوی نقل کی گئی ہے: وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ وَبُعِثْتُ إِلَى الْإِنسِ وَالْجِنِّ - نبی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوا کرتا تھا اور میں انس و جن کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔جس سے ظاہر ہے دونوں گروہ تو حید وارکان اسلام کے مکلف ہیں۔سوائے فروعات کے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴ ۴۱ تا ۴۱۶) یہ خلاصہ ہے جمہور کے مذہب کا اور ان سوالات کے جواب کا جو جنوں کے تعلق میں اٹھائے گئے ہیں۔مختلف روایتیں اور خیالات نقل کرنے کے بعد امام ابن حجر نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ امام بخاری نے جنوں کے ذکر میں دو باب نمبر ۱۲ ۱۳۰) قائم کر کے کوئی ایسی روایت یا حدیث ان ابواب کی ذیل میں نقل نہیں کی جس کا تعلق مذکورہ سوالات و اختلافات سے ہو۔آیات واقوال کے حوالے دیے گئے ہیں اور اس باب میں اذان سے متعلق صرف ایک حدیث نقل کی ہے جو کتاب الأذان، باب ۵، روایت نمبر ۶۰۹ میں گزر چکی ہے۔عنوان باب صِفَةُ الجِنِّ سے نہیں بلکہ الفاظ ذِكْرُ الْجِنِّ سے قائم کر کے ان کے مکلف شریعت اسلامیہ اور ان کے ثواب وعقاب کے بارے میں سورۃ الانعام کی ان آیات سے استدلال کیا ہے جو اپنے سیاق میں بڑی واضح ہیں۔یہ تراید(جامع البيان للطبرى، تفسير سورة الأنعام آيت يمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ )