صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 120 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 120

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۲۰ ۵۹ - كتاب بدء الخلق عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مالک سے، مالک نے عبدالرحمن بن عبداللہ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عبد الرحمن بن ابی صعصعہ انصاری سے، عبد الرحمن الْأَنْصَارِي عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ نے اپنے باپ ( عبداللہ ) سے روایت کی کہ انہوں أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ نے ان کو بتایا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ لَهُ إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا نے ان سے کہا: میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم بکریاں كُنْتَ فِي غَنَمِكَ وَبَادِيَتِكَ فَأَذَنْتَ اور جنگل پسند کرتے ہو، اس لئے تم جب اپنی بکریوں بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ فَإِنَّهُ اور جنگل میں ہو اور نماز کی اذان دو تو دو تو اذان میں لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِن اپنی آواز کو بلند کیا کرو۔ اس لئے کہ جو جن و انسان وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ اور جو بھی مؤذن کی آواز آخری حد تک سنے گا الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُهُ مِنْ وہ ضرور اس کے لئے قیامت کے روز شہادت دے گا۔ حضرت ابو سعید نے کہا: میں نے یہ رسول اللہ رَّسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافه: ٦٠٩، ٧٥٤٨ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ تشريح : ذِكْرُ الْجِنِّ وَتَوَابُهُمْ وَعِقَابُهُمْ: عنوانِ باب جنوں کے ذکر اور ان کے ثواب وعقاب سے nnnnnn متعلق قائم کر کے اس اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو معتزلہ وغیرہ نے جنوں کے وجود اور ان کے مکلف شریعت یا غیر مکلف ہونے کی نسبت اُٹھایا ہے۔ اس ضمن میں امام ابن حجر نے متعدد روایتیں نقل کی ہیں اور علماء وائمہ کے اقوال کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق مندرجہ ذیل سوالات سے ہے جو جنوں کے بارے میں اُٹھائے گئے ہیں۔ (اول) آیا جنوں کا وجود ان معنوں میں ہے جو عامۃ الناس کے نزدیک مشہور ہے؟ فلسفی اور دہر یہ اس کے منکر ہیں۔ بعض ارباب دین کو بھی انکار ہے اور وہ ارواح لطیفہ ہی کو جن سمجھتے ہیں جو فی کائنات ہیں اور ان کے نزدیک وہ شریعت بشری کے مکلف نہیں۔ (دوم) آیا جنوں کا انسانوں سے تعلق اور ان پر تسلط ہے جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے؟ امام بیہقی نے ربیع کی سند سے امام شافعی کا قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے : مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يَرَى الْجِنَّ أَبْطَلْنَا شَهَادَتَهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا سے کا میں ہے: ا جو یہ دعوی کرے کہ وہ جنوں کو دیکھتا ہے، ہم اس کی شہادت باطل قرار دیں گے۔ سوا اس کے کہ کسی نبی نے ایسی رؤیت کی بابت ذکر کیا ہو۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ اپنی اصل شکل میں مخفی کا ئنات لطیفہ آنکھوں سے نہیں دیکھی جاسکتیں۔ ہیں۔ البتہ