صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 119
صحيح البخاری جلد 4 119 بَاب ۱۲ : ذِكْرُ الْجِنِّ وَثَوَابُهُمْ وَعِقَابُهُمْ جنوں کا ذکر اور ان کا ثواب و عقاب ۵۹ - كتاب بدء الخلق لِقَوْلِهِ : يُمَعْشَرَ الْجِنَّ وَالْإِنْسِ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اے معاشرہ جن وانس! کیا تمہارے اَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے جو تمہیں میرے احکام سناتے تھے اور تمہیں آج کے دن کی ملاقات سے ڈراتے يَقُضُونَ عَلَيْكُمْ أَيْتِي إِلَى قَوْلِهِ تھے؟ وہ کہیں گے ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں اور عَمَّا يَعْمَلُونَ (الأنعام: ۱۳۱۰ - ۱۳۳) والی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا اور انہوں نے بَخْسًا (الجن: ١٤) نَقْصًا۔اپنے خلاف آپ یہ گواہی دی کہ وہ کافر تھے۔{ یہ اس لیے (ہوگا) کہ اللہ کسی بستی کو ظلم سے ہلاک نہیں کرتا اس حال میں کہ اس کے رہنے والے غافل ہوں۔اور سب کیلئے جو انہوں نے عمل کیے ، ان کے مطابق درجے ہیں اور تیرا رب اس سے غافل نہیں جو وہ کیا کرتے تھے۔} بخشا کے معنی ہیں کمی ، گھاٹا۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ : وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ مجاہد نے کہا: ( سورۃ الصافات میں جو ہے ) اور انہوں b الْجِنَّةِ نَسَبًا (الصافات: ١٥٩) قَالَ نے اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ تجویز کیا ہے، کفار كُفَّارُ قُرَيْشِ الْمَلَائِكَةُ بَنَاتُ اللهِ قریش کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ان کی وَأُمَّهَاتُهُنَّ بَنَاتُ سَرَوَاتِ الْجِنِّ مائیں جن سرداروں کی بیٹیاں ہیں۔اللہ نے فرمایا: قَالَ اللهُ: وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ جنات کو علم ہو چکا ہے کہ انہیں ضرور محاسبہ کے لئے حاضر کیا جائے گا۔(سورة يس میں فرمایا: ) ان إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ (الصافات: ١٥٩) سَيُحْضَرُونَ لِلْحِسَابِ جُندٌ معبودوں کو حساب کے وقت حاضر کیا جائے گا۔(یعنی مُّحْضَرُونَ (يس: ٧٦) عِنْدَ الْحِسَابِ دونوں آیات ہم معنی اور معبودانِ باطلہ اور ان کے پرستاروں سے متعلق ہیں۔)۔٣٢٩٦: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَّالِكٍ ۳۲۹۶ : قتیبہ بن سعید ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے