صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 118 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 118

۱۱۸ صحيح البخاری جلد ٦ ۵۹ - كتاب بدء الخلق الفاظ غاوی و طاغوت و شیطان جو غوا یہ وطغیان اور شیط و قطن سے مشتق ہیں سب میں حدود سے نکلنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ہر شہوت وقوت میں لامحدود میلان اور پھیلاؤ کی قابلیت موجود ہے۔احکام الہی کی بجا آوری میں اسے حدود کے اندر اور حد اعتدال پر رکھنے کے لئے خود نفس بشری کو بہت بڑی جدو جہد کرنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے خالق کی خوشنودی اور ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے اور اس کے لئے قوت ارادہ کا ہتھیار اسے دیا گیا ہے۔نفس کی اس مخصوص باطنی تخلیق کو جن کا نام دیا گیا ہے کہ وہ نفس میں پوشیدہ ہے۔عربی میں جن کے معنی ہی پوشیدہ مخلوق کے ہیں۔قرآن مجید میں اس نفسی کیفیت کو عام فہم اسلوب میں مختلف پیرایوں میں واضح کیا گیا ہے۔ان اشخاص پر جو مذکورہ بالا باطنی کیفیت کے مظہر ہیں شیطان کا اطلاق ہوتا ہے۔یعنی صفت شیطنت ان کے خیالات و اعمال میں تمام پہلوؤں کے اعتبار سے نمایاں طور پر غالب ہے یا وہ کسی ایک وصف میں یا بعض اوصاف میں اس کے مصداق ہیں۔(دیکھئے روایات نمبر ۳۲۸۲،۳۲۷۴،۳۲۶۸، (۳۲۹۵،۳۲۹۴۳۰۶۱،۳۲۸۴ قرآنِ مجید میں ایسے اشخاص پر لفظ شیطان کا اطلاق بکثرت ہوا ہے جیسے سورۃ البقرہ آیت ۱۵ میں مشرکین کے رہنماؤں کے لئے فرماتا ہے : وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطِينِهِمُ جنگ احد کے موقع پر عبداللہ بن اُبی اپنے تین سوساتھیوں سمیت مدینہ کو لوٹ گیا تھا اور جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا۔منافقین کے اس سردار کے لئے لفظ شیطان اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔فرماتا ہے : إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعِنِ * إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَنُ بِبَعْضٍ مَا كَسَبُوا (آل عمران: ۱۵۶) جس دن دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تھے، اس دن تم میں سے جنہوں نے پیٹھ پھیر لی تھی انہیں صرف ان کے بعض اعمال کی وجہ سے شیطان نے گرانا چاہا تھا اور اب اللہ یقینا انہیں معاف کر چکا ہے۔اللہ یقیناً بہت بخشنے والا (اور ) بردبار ہے۔الغرض وساوس نفس پر ، حشرات الارض نقصان دہ جانور اور زہریلے مواد پر اور خلاف صحت مواد، کیفیات باطنیہ یا جسمانیہ پر بھی لفظ شیطان اطلاق پاتا ہے۔عنوانِ باب میں مذکورہ بالا تمام اقسام ابلیس وجنودہ کے شمار میں ہیں اور احادیث میں ان سے محفوظ رہنے کا علاج نماز و روزہ، دعا اور ذکر الہی اور توسل باری تعالیٰ بتایا گیا ہے۔یہ خلاصہ ہے بابا کا۔اگر اس قدر وضاحت کے بعد بھی کوئی مطمئن نہ ہو اور خیالی دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ کا ابلیس مردود اور شیطان لعین پیر فرتوت ڈھونڈنا چاہے تو اس کی مرضی۔قرآن مجید تو ہم سے یہی فرماتا ہے : وَفِي الْأَرْضِ ايَتٌ لِلْمُوْقِنِينَ ، وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ) (الذاریات : ۲۱ ۲۲) اس زمین میں اور تمہارے نفوس میں یقین کرنے والوں کے لئے بڑے بڑے نشانات ہیں۔کیا تم بصیرت سے کام نہیں لیتے۔جب تک ہم خیالات میں سرگردان رہیں گے نفس امارہ کے امراض کی تشخیص اور ان کی اصلاح نہیں ہوگی۔