صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 117
صحيح البخاری جلد ٦ 112 ۵۹ - كتاب بدء الخلق رکھا جا سکتا ہے۔سوتے وقت ذکر الہی اور دعا سے استعانت ہمارے تجربہ میں ہے کہ انسان راحت کی نیند سوتا اور اچھی حالت میں بیدار ہوتا ہے۔اس تعلق میں کتاب الدعوات، ابواب 4 تا 1 بھی دیکھئے۔روایت نمبر ۳۲۹۴ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرعوب ہونے والے شیطان صفت لوگ ہی تھے۔اس روایت میں قریش کی جن عورتوں کے خرچ مانگنے کا ذکر ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ہی تھیں جن میں حضرت عمر کی بیٹی حضرت حفصہ بھی شامل تھیں۔تاریخ اسلامی میں یہ واقعہ خیار کے نام سے مشہور ہے۔روایت نمبر ۳۲۹۵ میں ناک کے بالائی حصے میں رینٹھ کا انجماد شیطانی قرار دیا گیا ہے۔اسی لئے ناک میں پانی لے کر اس کے ازالہ کی ہدایت کی گئی ہے تاکسل دور ہو اور نشاط عود کرے۔غرض مذکورہ بالا روایات میں اسم شیطان کا اطلاق مندرجہ ذیل معنوں میں ہوا ہے :- نفس ناطقہ بشریہ کا میلان جو طبعی خواہشات اور قوائے غصبیہ کے استعمال میں بصورت اسراف انسان کو حدود سے نکال دیتا ہے جس کا عام فہم نام محرک بدی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تشریحات میں لمہ شیطانیہ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے جو محرک خیر یالمہ ملکیہ کے بالمقابل نفس ناطقہ بشریہ میں موجود ہے اور ہر شخص ان دو محرکوں کی موجودگی کو محسوس کرتا ہے اور یہ دونوں میلان طبعی نفس کی تخلیق میں مودع ہیں۔روایت نمبر ۳۲۷، ۳۲۸۳٬۳۲۸۲،۳۲۷۶، ۳۲۸۵ صحیح بخاری کی ان روایتوں کی تائید صحیح مسلم کی اس روایت سے ہوتی ہے : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَا مِنْكُمُ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَكَّلَ بِهِ قَرِيْتُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِيْتُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ قَالُوا وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِيَّايَ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک قرین (رفیق) جن کی نوع میں سے اور ایک قرین فرشتوں میں سے موکل ہے۔صحابہ نے عرض کیا کہ کیا آپ کے ساتھ بھی؟ فرمایا: ہاں، میرے ساتھ بھی۔مگر اللہ نے مجھے اس پر غالب کر دیا ہے اور وہ میرے قابو میں ہے۔بجز نیکی کے مجھے اور کوئی بات نہیں کہتا۔قرآنِ مجید میں بھی اس کا نام قرین رکھا گیا ہے۔فرماتا ہے: قَالَ قَرِينُهُ رَبَّنَا مَا أَطْغَيْتُهُ وَلَكِنْ كَانَ في ظَلَلٍ بَعِيْدِه (ق: ۲۸) اس کے رفیق نے کہا: اے ہمارے رب ! میں نے اسے حدود سے جبرا نہیں نکالا۔لیکن یہ خود ہی پر لے درجہ کی گمراہی میں تھا۔اور اسی سورۃ میں اس قرین جن کا نام فَعِید بھی ہے اور اس کا عمل وسوسہ اندازی بتایا گیا ہے۔(ق: ۱۸) جو بائیں جانب سے یعنی نفس بشری میں بدی کی تحریکات کرتا ہے اور اس کے بالمقابل قرین ملکی بطور رقیب و محافظ کے دائیں جانب یعنی نیک تحریکات کرتا ہے۔سورۃ الاعراف کی آیت قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَا قُعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ (الأعراف: ۱۷) میں حدود سے نکالنے کے لئے صراط مستقیم پر دھر نا مار کر بیٹھنے اور ہر جہت سے نفس کو شہوات میں حدود سے نکالنے کا ذکر ہے۔نفس کے اس مخصوص میلان طبعی کے اعتبار سے اس قعِید کا نام نفس امارہ ہے۔☆ (صحیح مسلم، کتاب صفة القيامة، باب تحريش الشيطان وبعثه, سرا اياه لفتنة الناس)