صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 116 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 116

صحيح البخاری جلد 4 117 ۵۹ - كتاب بدء الخلق قابل اعتراض تھی۔اس لئے مس شیطانی سے ان کی معصومیت کا ذکر خصوصیت سے کیا گیا ہے۔اگلی روایت لا کر امام بخاری نے وضاحت کر دی ہے کہ ایک خاص شخص کا ذکر دوسرے اشخاص سے نفی کا مستلزم نہیں۔تمام انبیاء اور اولیاء اللہ اور صحابہ کرام کو الہی حفاظت حاصل تھی۔أَفِيُكُمُ الَّذِى أَجَارَهُ اللهُ مِنَ الشَّيْطَان : روایت ۳۲۸۷ اپنے سیاق میں مختصر ہے۔کتاب المناقب، باب مناقب عمار میں مفصل آئے گی۔حضرت عمار بن یا سٹر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ بھی شیطان کے اثر سے محفوظ رکھے گئے تھے۔اس حدیث سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی پناہ و حفاظت میں ہو، اس پر شیطان کا کسی قسم کا تسلط نہیں ہوگا۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۱۲) یہ مفہوم قرآن مجید کی نص کے بھی مطابق ہے۔حضرت عمار بن یاسر کے ذکر سے دوسروں کی نفی نہیں۔الْمَلَائِكَةُ تَتَحَدَّثُ فِي الْعَنَانِ : روایت نمبر ۳۲۸۸ معلق ہے جسے ابو نعیم نے اپنی کتاب مستخرج میں ابو صالح سے بسند ابو حاتم رازی نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۱۲) اسی مفہوم کی روایت اس سے قبل نمبر ۳۲۱۰ میں زیر باب ۶ ایک دوسری سند سے گزر چکی ہے، وہاں اس کی تشریح دیکھئے۔کا بہن سے مراد پنڈت، جوتشی، نجومی اور ہرڑ پوپو وغیرہ ہیں۔عنان کے معنی بادل راوی کی طرف سے کئے گئے ہیں۔یہ لفظ بادل پر بطور استعارہ اطلاق پاتا ہے۔اصل معنی اس کے آسمان کی بلندی کے ہیں۔(القاموس المحیط - عنن) (اقرب الموارد- عنن) التَّشَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ: روایت نمبر ۳۲۸۹ سے شیطان کے مفہوم میں مزید وسعت دکھائی گئی ہے۔جمائی کا سبب بعض انسانی بیماریاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔فَصَاحَ إِبْلِيسُ۔۔۔: روایت نمبر ۳۲۹۰ کے لئے کتاب المغازی، باب ۱۸ بھی دیکھئے۔ابلیس سے مراد کفار قریش میں سے فریب دینے والا شخص ہے۔جیسا کہ طبقات ابن سعد میں ابن قمیہ سے متعلق صراحت ہے کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر کے آپ کو زخمی کیا جس سے آپ گر پڑے اور یہ شیطان چلایا کہ محمد(ﷺ) ہمارے گئے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله الله أحدا ، جز ۲ صفحه ا۴) اس واقعہ سے متعلق سیرت ابن ہشام میں ہے : فَأْتِيْنَا مِنْ خَلْفِنَا وَصَرَخَ صَارِحٌ أَلَا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ۔۔۔(السيرة النبوية لابن هشام غزوة أحد، حديث الزبير عن سبب الهزيمة ) پھر وہ ہمارے پیچھے سے آئے اور ایک پکارنے والا پکارا: محمد قتل ہو چکے ہیں جس پر لوگ پلٹے اور ہم پر پل پڑے۔روایت نمبر ۳۲۹۱ میں بھی شیطان سے مراد غفلت ہے جس سے نماز میں توجہ الی اللہ منتشر ہو جاتی ہے۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب الأذان باب ۹۳ روایت نمبر ۷۵۱۔اور روایت نمبر ۳۲۹۲ میں پریشان خواب شیطان کی طرف منسوب کئے گئے ہیں، سوء ہضمی اس کا باعث ہو یا کوئی اور سبب۔روایت نمبر ۳۲۹۳ میں ذکر الہی اور دعائے تعوذ بہترین علاج بتایا گیا ہے جس سے شیطانی اثرات سے نفس کو محفوظ