صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 115 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 115

صحيح البخاری جلد 4 ۱۱۵ ۵۹ - كتاب بدء الخلق ہلاک ہو گیا۔الغرض از روئے لغت ہر سرکش، ہلاک ہونے والا شیطان کہلاتا ہے خواہ انسان ہو یا پوشیدہ مخلوق یا جانور۔شَيَاطِينُ الْعَرَب کا لفظ کا ہن، ہرڑ پوپو وغیرہ پر بولا جاتا ہے کہ جن سے جادو ٹونا، گنڈہ تعویذ کرا یا جاتا اور قسمت کی باتیں معلوم کی جاتی ہیں۔عربوں کا اعتقاد تھا کہ وہ شر پہنچا سکتے ہیں۔عربی میں سانپ کو بھی شیطان کہتے ہیں۔پیاس کا نام شَيْطَانُ الْفَلَا ( بیابان کا شیطان) ہے۔کیونکہ پانی دستیاب نہ ہونے سے وہ ہلاکت کا موجب ہوتی ہے۔غرض لفظ شَيْطَان کا مفہوم و استعمال وسیع ہے۔(دیکھئے اقرب الموارد – شطن، شیط) رات کے تغیرات و احتمالات سے بچوں کو محفوظ رکھنے کی ہدایت ارشاد نبوی میں مضمر ہے۔جن کا نفس لطیف ادنیٰ تغییر سے بھی متاثر ہوتا ہے۔اس تعلق میں ابن جوزی کہتے ہیں کہ عاقل بالغ انسان تو بذریعہ ذکر الہی شیطانی تا شیرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتا ہے، بچے نہیں رکھ سکتے۔فَلِذَلِكَ خِيْف عَلَى الصِّبْيَانِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ - بي وجہ ہے کہ اس وقت بچوں سے متعلق اندیشہ ہوتا ہے کہ ان کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۴۱) چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا ہدایت آداب عامہ سے تعلق رکھتی ہے، اس لئے امام بخاری نے یہ روایت کتاب الادب (كتاب الاستئذان باب ۵۰،۴۹) میں بھی نقل کی ہے اور یہ روایت اس غرض سے یہاں لائی گئی ہے کہ الفاظ ابلیس وشیطان کے مفہوم کی وسعت اطلاق کا علم ہو۔روایت نمبر ۳۲۸ سے ظاہر ہے کہ بدظنی وساوس شیطان میں سے قرار دی گئی ہے۔یہ روایت کتاب الاعتکاف باب ۱۲،۱۱،۸ میں گزر چکی ہے۔روایت نمبر ۳۲۸۲ سے غصہ وغضب کو بھی شیطانی فعل قرار دیا گیا ہے۔روایت نمبر ۳۲۷۱ اور نمبر ۳۲۸۳ سے ظاہر ہے کہ نفس کی اچھی بری حالت نطفہ پر اثر انداز ہوتی ہے۔اس لئے مباشرت کے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آئینہ کمالات اسلام میں امام احمد بن نبل کی روایت کا حوالہ اس تعلق میں نقل کیا ہے اور فرماتے ہیں: وو لمہ ملک اور لمہ اہلیس برابر طور پر انسان کو دیئے گئے ہیں۔یعنی ایک داعی خیر اور ایک داعی شر تا انسان اس ابتلاء میں پڑ کر مستحق ثواب یا عقاب کا ٹھہر سکے۔፡፡ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ حاشیه صفحه ۸۳) روایت نمبر ۳۲۸۴ کے لئے دیکھئے کتاب الصلاۃ باب ۷۵ تشریح روایت نمبر ۴۶۱۔اور روایت نمبر ۳۲۸۵ کے لئے دیکھئے کتاب الأذان باب ۴۔كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعُنُ الشَّيْطَانُ فِي جَنْبَيْهِ : روایت نمبر ۶ ۳۲۸ میں كُلُّ بَنِی آدَم سے مراد ہر وہ مولود ہے جو باپ یا ماں کے بداثر سے متاثر ہوتا اور بعض مخفی اسباب سے اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے محروم ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام بلا باپ تھے، اس لئے پر وہ مشیمہ (بچہ دانی) کا ذکر وارد ہوا ہے۔یہود کے نزدیک ان کی پیدائش التحرير والتنوير لابن عاشور، تفسير سورة البقرة آیت ۱۰۲ جزء اول صفحه ۶۲۹