صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 114
صحيح البخاری جلد 1 ۱۱۴ ۵۹ - كتاب بدء الخلق میں صدقات کی کھجوریں چرانے والا شیطان سے ملقب کیا گیا ہے۔ روایت نمبر ۳۲۷۴ کی مزید وضاحت کے لیے كتاب الصلاة باب ۱۰۰ ، ۱۰۱ دیکھئے اور حضرت ابو ہریرہ کی کھجوروں کے چور والی روایت (نمبر ۳۲۷۵) کے لیے دیکھئے كتاب الوكالة باب ۱۰ روایت نمبر ۲۳۱۱۔ روایت نمبر ۳۲۷۶ میں وسواس نفسیہ شیطان کے نام سے موسوم کئے گئے ہیں۔ وایت نمبر ۷ ۳۲۷ میں جنت کے دروازے ازے کھلنے سے تحریکات نیکی جاری او بات نیکی جاری اور جہنم کے دروازے بند ہونے سے تو ونے سے تحریکات بدی بند ہونا مراد ہے۔ اسی طرح سے شیطان قید کئے جانے سے مراد محرکات بدی کی بندش ہے۔ روایت نمبر ۳۲۷۸ میں نسیان شیطانی فعل قرار دیا گیا ہے۔ اس سے سورہ کہف کی آیت قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ ۔۔۔ الكهف : ۶۴) کی طرف اشارہ ہے۔ (ترجمہ) اس نے کہا کہ بتائیے ( اب کیا ہوگا ) جب ہم (آرام کے لئے ) اس چٹان پر ٹھہرے تو میں مچھلی ( کا خیال ) بھول گیا اور مجھے یہ بات شیطان کے سوا کسی نے نہیں بھلائی۔ إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ : روایت نمبر ۳۲۷۹ میں دجال کے ظہور و غلبہ کو قَرْنُ الشَّيْطَان (شیطانی سینگ) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یورپ کی عیسائی اقوام نے اٹھارویں صدی عیسوی میں مختلف تجارتی کمیٹیاں ہندوستان وغیرہ مشرقی بلاد کی طرف بھیجنا شروع کیں ۔ آخر برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی باقی تجارتی کمپنیوں پر غالب آئی۔ جس سے رفتہ رفتہ اسلام و مسلمانوں کے خلاف دجالی طاقتوں کے موجودہ غلبہ کی تاریخ شروع ہوئی۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب الفتن، باب ذکر الدجال ۔ فتنہ سے مراد دجالی فتنہ ہے۔ امام ابن حجر نے مشرق سے شیطانی سینگ نکلنے کا مفہوم ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ وَحَاصِلُهُ أَنَّ مَنْشَأ الفِتَنِ مِنْ جِهَةِ الْمَشْرِقِ - ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۱ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا پیشگوئی کا ماحصل یہی ہے کہ مشرق کی سمت فتنوں کا منبع ہوگی اور موجودہ واقعات بھی اسی امر واقع کی تصدیق کرتے ہیں۔ عربی میں قَرْنُ الشَّمْسِ سے مراد ہے أَوَّلُ مَا يَبْدُو مِنْهَا - سورج کی پہلی کرن کا نکلنا ۔ الْقَرْنُ مِنَ الْمَطَرِ بارش کی پہلی بوچھاڑ ۔ مذکورہ بالا روایت کا عنوان باب سے تعلق ظاہر ہے کہ دجالی کا رکن جو بکثرت ہیں سب ابلیس وجنودہ کے زمرے میں شمار کئے گئے ہیں۔ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ : روایت نمبر ۱۳۲۸۰ ۳۲۸۰ لفظ شیطان کے مفہوم میں اور بھی وسعت پیدا کرتی ہے۔ سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی نہ صرف حشرات الارض (زمین کے کیڑے مکوڑے) سانپ بچھو اپنے بلوں سے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں اور بخارات سے جبس محسوس ہوتا ہے بلکہ وہ جانور جن کا تعلق دن کے ساتھ ہے، وہ بھی اپنے ٹھکانوں میں واپس آتے ہیں۔ گلی کوچوں اور راستوں میں ازدحام ہوتا ہے۔ جن سے بچوں کو آزاد رہنے دینے سے ان کے لئے خطرہ جان اور صحت بگڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے ایسی تمام نقصان دہ کا ئنات کو شیطان کا نام دیا گیا ہے ۔ شَيْطَان کا اسم مشتق ہے شَطَنَ سے یا شَيْطَ ہے ۔ شَطَنَ کے معنی ہیں دور نکل گیا اور شاط کے معنی ہیں جل گیا۔ دونوں میں خباثت اور ہلاکت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ عربی زبان میں الشَّاطِنُ کے معنی ہیں الرَّجُلُ الْخَبِيثُ بد اخلاق بد کردار شخص - شَطَنَ عَنِ الْحَقِّ - حق سے دور نکل گیا اور جب شَاطَ فلان کہیں تو معنے ہوں گے هَلَکَ