صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 113
صحيح البخاری جلد 1 ۱۱۳ ۵۹- كتاب بدء الخلق سے تعلق ہے شارحین کو دقت محسوس ہوئی ہے۔ لیکن یہ دقت حل ہو جاتی ہے، اگر ابلیس وجنودہ اور شیطان سے متعلق امام بخاری کا تصور مد نظر ہو۔ ان کے نزدیک ابلیسی صفت تمام لوگ شیطان کے مظہر ہیں اور ان میں سے ایک بڑا گر وہ وہ ہے جو جادوگروں اور کاہنوں کے نام سے مشہور ہے۔ تاریخ ادیان قدیمہ سے متعلق علماء یورپ وغیرہ نے بڑی تحقیق کر کے ضخیم اور قابل قدر کتا بیں تصنیف کی ہیں ۔ ان کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ اس گروہ کا نہ صرف قدیم مصر اور صحرائے افریقہ کے دور و نزدیک علاقوں کے قدیم باشندوں ہی کے مذہبی عقائد پر تسلط تھا۔ بلکہ ایشیا کے طول و عرض پر اس گروہ کا جادو بھوت کی طرح سروں پر سوار تھا۔ دور جانے کی ضرورت نہیں خود ہندوستان میں اب تک مشرک اقوام کے پنڈت پروہتوں کا منتر جنتر چلتا ہے اور ازمنہ قدیمہ سے دین سحری ( جادوگری) مشرکانہ عقائد اور بد رسوم و عادات قبیحہ کا بہت بڑا گہوارہ رہا ہے۔ اس لئے امام بخاری نے ابلیس اور اس کے لشکروں کے ذکر میں سب سے پہلے اس گروہ کا ذکر کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی یہ گروہ پایا جاتا تھا اور مشرکین کے کاہن طواغیت العرب کے نام سے مشہور تھے۔ یہود میں بھی یہ طبقہ ساحرین کا پایا جاتا تھا۔ قرآن مجید نے بھی ان کا ذکر آیت اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا (النساء : ۵۲ میں کیا ہے۔ جنت کے معنی ہیں السِّحْرُ وَالسَّاحِرُ ، الَّذِي لَا خَيْرَ فِيهِ۔ (اقرب الموارد – جبت) جادو اور جادوگر جس میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ طاغوت فن جادوگری کا دوسرا نام تھا۔ اور یہودیوں میں بھی سحر کاری بہت رائج تھی جیسے مشرکین کے مذہبی سرداروں میں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین اور یہود دونوں کا جادو توڑنے میں کامیاب ہوئے، جس کی تفصیل آئندہ کتاب الطب باب ۵۰،۴۹ میں آئے گی۔ ☆ روایت نمبر ۳۲۶۸ میں آپ کے جس مکاشفہ کا ذکر ہے اس کی یہی تعبیر ہے کہ آپ کے ذریعہ سے اس گمراہ اور گمراہ کن گروہ کا جادو بھی توڑ دیا جائے گا۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہ جادوگر ہر ملک میں اپنی سحر کاری کے لئے ویرانوں وگنجان جنگلوں میں اپنا ٹھکانہ بناتے اور اس سے انسانوں کی قوت متخیلہ و واہمہ کو مرعوب و متاثر کرتے تھے۔ یہاں موضوع باب ا بالسہ ہے اور اس ذریت کی انواع و اقسام کا ذکر ما بعد کی و اقسام کا ذکر ما بعد کی روایات میں موجود ہے اور ان میں - ں سے بعض میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح شیطانی تاثرات کو دور فرمایا۔ ذریت روایات نمبر ۳۲۶۹، ۳۲۷۰ کے لیے دیکھئے کتاب التهجد باب ۱۲ ۱۳۔ سر کی گدی پر افسون ، کانوں میں پیشاب کرنا، اس روایت سے شیطان کی غیر مرئی اقسام کا بیان کرنا مقصود ہے۔ روایت نمبر ۳۲۷۳٬۳۲۷۲ کے لئے دیکھئے كتاب مواقيت الصلاة، باب ۳۰ تا ۳۳- روایت نمبر ۳۲۷۴ میں نمازی کے سامنے گزرنے والا اور روایت نمبر ۳۲۷۵ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " کیا تو نے ان کی طرف نظر نہیں دوڑائی جن کو کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا۔ وہ بتوں اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں اور اُن ) ا لاتے ہیں اور اُن لوگوں کے متعلق جنہوں نے انکار کیا کہتے ہیں کہ یہ لوگ مسلک کے لحاظ سے ایمان لانے والوں سے زیادہ درست ہیں ۔“