صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 112
صحيح البخاري - جلد 1 ۱۱۴ ۵۹ - كتاب بدء الخلق چوتھی آیت کا حوالہ بھی اسی سیاق سے تعلق رکھتا ہے۔ آیت اور اس کا ترجمہ حاشیے میں شامل کر دیا گیا ہے، تا سمجھنے میں آسانی ہو۔ پانچویں آیت بھی سورۃ بنی اسرائیل کی ہے، اس میں لفظ لاحْتَنِكُنَّ آیا ہے۔ کہتے ہیں احْتَنَكَ مَا عِنْدَهُ أَي أَخَذَ جو کچھ اس کے پاس تھا سارا لے لیا۔ اس میں شیطانی ذریت ہی کا ذکر ہے کہ شیطان جتنا چاہے زور آزمائی کرے اور دھوکہ دے، وہ ناکام ہوگا ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ (بنی اسرائیل: ۶۶) کہ میرے بندوں اور پرستاروں پر تیرا ہرگز تسلط نہیں ہوگا ۔ چھٹی آیت میں بھی شیطان ہی کا ذکر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محولہ بالا آیات کریمہ کا عنوانِ باب سے کیا تعلق ہے جس کی بندش الفاظ صِفَةُ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ سے ہے۔ دراصل امام بخاری ان کمزور روایات کی صحت کے بارے میں متفق نہیں جن میں آیا ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے تھا اور اس وقت اس کا نام عزازیل تھا اور اس کا نام حارث اور حکم بھی تھا اور اس کی کنیت ابومرہ اور ابوالکر و بین تھی ۔ جب اس فرشتے نے سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اس کا نام ابلیس ہوا۔ یہ روایات ابن ابی الدنیا وابن خالویہ وغیرہ نے نقل کی ہیں۔ (فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۰۹) یہ نہ صرف سند کے لحاظ سے کمزور ہیں بلکہ قرآن مجید کی نص صریح کے بھی خلاف۔ اللہ تعالیٰ ملائکہ کی نسبت فرماتا ہے لَا : يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحریم: (۷) وہ اللہ کے حکم کی ناف نافرمانی نہیں کرتے اور ہر حکم جو انہیں ملتا ہے بجالاتے ہیں۔ اس لئے امام موصوف نے ایسی روایات نظر انداز کر کے وہ آیات پیش کی ہیں جن سے ظاہر ہے کہ ابلیس خواه اسم خاص ہو یا اسم عام، شیطان کا مظہر ہے ۔ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ (البقرة: ۳۵) آدم علیہ الصلوۃ والسلام کا مد مقابل کفار میں سے ایک متمرد ( سرکش ) اور نافرمان شخص تھا۔ مذکورہ بالا آیات کے حل کردہ الفاظ کے لئے جن صحابہ اور تابعین کی روایتوں کے حوالے دیئے گئے ہیں وہ فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۰۹ نیز عمدة القاری جزء ۱۵ صفحہ ۱۶۸، ۱۶۹ میں ملاحظہ ہوں ۔ روایات زیر باب کی تشریح نمبر وار حسب ذیل ہے۔ سُحِرَ النَّبِيُّ له : روایت نمبر ۳۲۶۸ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو کئے جانے اور اس کے اثر سے بذریعہ دعا شفایابی کا جو ذکر ہے، اس کی تفصیل کتاب الطب میں آئے گی ۔ جہاں تک اس روایت کا باب کے نفس مضمون وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَاجْلِبُ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكُهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَنُ إِلَّا غُرُورًا Ol (بنی اسرائیل (۲۵) ترجمه از تفسیر صغیر: اور (ہم نے کہا: جا ) ان میں سے جس پر تیرا بس چلے ، اسے اپنی آواز سے فریب دے کر (اپنی طرف) بلا اور اپنے سواروں اور پیادوں کو ان پر چڑھالا۔ اور (ان کے) مالوں اور اولادوں میں ان کا حصہ دار بن اور ان سے (جھوٹے ) وعدے کر ( اور پھر اپنی کوششوں کا نتیجہ دیکھ ) اور شیطان جو وعدے بھی کرتا ہے فریب کی نیت ہی سے کرتا ہے۔} لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَاحْتَنِكَنَّ ذُرِيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلاه (بنی اسرائیل: ۶۳) ترجمه از تفسیر صغیر: اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی تو ( مجھے تیری ہی ذات کی قسم ہے کہ ) میں اس کی (تمام) اولاد کو قابو میں کرلوں گا سوائے تھوڑے سے لوگوں کے (جنہیں تو بچالے )