صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 111 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 111

صحيح البخاری جلد ۶ b ۵۹- كتاب بدء الخلق غرض عنوان باب ابلیس اور اس کے لشکروں کے ذکر سے متعلق ہے اور اس کے تحت اٹھائیس روایتیں نقل کی گئی ہیں۔جن سے الفاظ ابلیس اور شیطان کے خاص و عام مفہوم کا علم حاصل ہوتا ہے۔عنوانِ باب میں جو چھ آیات کریمہ کی شرح کا حوالہ دیا گیا ہے، پہلے ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔آغاز میں سورۃ الصافات کی دو آیات کے حوالے دیے گئے ہیں۔سورۃ الصافات آیت ۵ تا ۱۰ میں اس شیطانی لاؤ لشکر کا ذکر ہے جو انبیاء کی آسمانی شریعت کو بگاڑنا چاہتے ہیں۔مگر وہ اپنی کوششوں میں نا کام کر دیئے جاتے ہیں۔جیسے ستارے مادی دنیا کی زینت ہیں اسی طرح انبیاء علیہم السلام سمائے روحانی کی زینت۔ان کی وحی شیطانی دست برد سے محفوظ کی جاتی ہے اور شیطان مارد ( بدارادہ گروہ) شریعت بگاڑنے میں کبھی کامیاب ہونے لگے تو شہاب ثاقب (مجدد) کے ذریعے سے اس کی ظلمت کا ازالہ کر دیا جاتا ہے۔یہ وعدہ اور سنت الہی ہے، اسلامی شریعت کی حفاظت کے لئے۔ان آیات کی شرح کے لئے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ حاشیه صفحه ۹۹ تا ۱۰۸، نیز تفسیر صغیرز سیر آیات مذکورہ بالا۔پھر سورۃ الاعراف کی آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس کے سیاق و سباق میں شیطان ہی کا ذکر ہے کہ اس نے سجدة اطاعت سے انکار کر دیا تھا۔قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمُ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ثُمَّ لَأَتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمُ * وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَكِرِينَ) (الأعراف: ۱۸،۱۷) کہا: چونکہ تو نے مجھے ناوی یعنی حدود سے آگے نکلنے والا بنایا ہے، اس لئے میں تیرے صراط مستقیم پر بیٹھ جاؤں گا اور لوگوں کے پاس ان کے سامنے سے اعلانیہ طور پر ) اور ان کے پیچھے سے (خفیہ طور پر ) اور ان کی دائیں طرف سے (یعنی دینی راہ سے ) اور ان کے بائیں طرف (یعنی دنیا کی راہوں) سے آؤں گا (اور انہیں صراط مستقیم سے بہکاؤں گا) اور تو ان میں سے بہتوں کو شکر گزار نہیں پائے گا۔مذکورہ بالا مکالمہ بصورت قَالَ اور قُلْنَا مکالمہ حال ہے۔شیطان اسم جنس ہے اور مجموعه شہوات نفس (اهواء) کا نام ہے۔ہر شہوت کا طبعی میلان حد سے تجاوز کرنا ہے۔مثلاً بھوک ہے کھانے بیٹھتا ہے، کھا تا چلا جاتا ہے۔اگر اس کا پیٹ محدود نہ ہوتا تو کھاتا چلا جاتا۔اسی طرح ہر شہوت نفس کا حال ہے کہ وہ حد اعتدال پر قرار نہیں پاتی۔انسان کی قوت غضبیہ کا یہی حال ہے۔شیطان کا مذکورہ قول فيمَا أَغْوَيْتَنِي اپنے خالق سے خطاب ہے کہ تو نے مجھے حدود سے نکلنے والا بنایا ہے، اس لئے اپنا یہ فرض منصبی تیرے سیدھے راستے پر بیٹھ کر بجا لاؤں گا اور میرے اس فرض بجالانے اور آزمائش کے نتیجے میں بعض جہنم کے مستحق ہوں گے اور بعض جنت کے محولہ بالا آیات کی تفسیر کا یہ مقام نہیں۔صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ عنوانِ باب میں جس دوسری آیت (الأعراف : 19) کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کا تعلق بھی شیطان اور اس کے فرضِ منصبی سے ہے جس کے ذریعے سے اچھے اور بُرے کی تمیز ہوتی ہے۔た تیسری آیت یہ ہے : إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا وَإِنْ يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَّرِيدًا ٥ (النساء: ۱۱۸) مشرک اللہ کو چھوڑ کر محض کمزور اور بے جان چیزوں کو پکارتے ہیں اور سوائے متمرد (سکرش) شیطان کے کسی کو نہیں پکارتے محولہ بالا آیت کے سیاق میں بھی شیطان ہی کا ذکر ہے جو بنی نوع انسان کے گمراہ کرنے اور بگاڑنے کا ٹھیکیدار اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہے۔