صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 110
صحيح البخاري - جلد 1 ۱۱۰ ۵۹ - كتاب بدء الخلق عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عِيسَى بْنِ سے، یزید نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے عیسی طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بن طلحہ سے عیسیٰ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ } سے حضرت ابو ہریرة۔ سے حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ☆ قَالَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَرَاهُ أَحَدُكُمْ مِّنْ اپنی نیند سے جاگے اور پھر وہ وضو کرے تو چاہیے کہ وہ مَّنَامِهِ فَتَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْفِرْ ثَلَاثًا فَإِنَّ تين بار ناک میں پانی لے کر اسے جھاڑ کر صاف الشَّيْطَانَ يَبِيْتُ عَلَى خَيْشُوْمِهِ۔ کرے ۔ کیونکہ شیطان اس کی ناک کے بالائی حصے کی اندرونی ہڈیوں پر رات بسر کرتا ہے۔ تشريح : صِفَةً إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ: إِبليس نام اثر کے نزدیک مجھی ہے۔ علامہ ابن انباری نے دلیل یہ دی ہے کہ اگر عربی نام ہوتا تو وہ عربی لفظ کی طرح منصرف ہوتا ۔ لیکن علامہ طبری نے یہ دلیل قبول نہیں کی اور بتایا ہے کہ یہ عربی نام ہے جو اَبْلَسَ يُبْلِسُ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں مایوس ہو گیا اور اس کی نظیر عربی زبان میں کم ہے جس کی وجہ سے یہ غیر منصرف ہے اور عجمی نام پر محمول کیا گیا ہے۔ لیکن اسے عجمی نام قرار دینے والوں نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ آدم کے دشمن کا مذکورہ بالا نام رحمت الہی سے مایوس ہونے اور جنت سے دھتکارے جانے سے قبل ہی تھا جس سے وہ مخاطب کیا گیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۰۸، ۴۰۹ ) اللہ تعالی نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السَّجِدِينَ (الحجر :۳۳) اس نے کہا: اے ابلیس! (تمہیں جب میں نے حکم دیا تھا ) تجھے سجدہ کرنے سے کس نے روکا؟ اس کی وضاحہ وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ أبى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ (البقرة: ۳۵) اس نے تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ ابلیس اسم علم ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے خاص دشمن کا یہ نام تھا اور کوئی مانع نہیں کہ اس کا اشتقاق ابلس سے ہو اور علم بھی ہو اور غیر منصرف بھی۔ ازروئے اشتقاق ابليس اسم وصفی بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی جمع أَبالیس اور أَبَالِسَہ ہے۔ اسم وصفی کے اعتبار سے ہرا بلیسی صفت انسان کو ابلیس کہہ سکتے ہیں۔ جیسے متکبر اور مغرور انسان کو فرعون کہا جاتا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت جابڑ کی ایک روایت مروی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: سَمِعْتُ النَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةٌ کے ابلیس سمندر پر چھا جائے گا اور اپنے دستہ ہائے فوج ادھر اُدھر بھیجے گا جو لوگوں کو گمراہ کریں گے اور ان میں سے سب سے زیادہ فتنہ پرداز اس کے نزدیک معزز ترین ہوگا۔ یہاں ابلیس سے مراد ابلیسی وصف دجال مراد ہے جیسا کہ حضرت تمیم داری کی مشہور حدیث میں صراحت - ہے۔ ) دیکھئے مسلم، کتاب الفتن، باب قصة الجساسة) لے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۲ حاشیہ صفحہ ۴۰۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ (مسلم، كتاب صفة القيامة والجنة والنار، باب تحريش الشيطان وبعثه سراياه لفتنة الناس)