صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 109
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۰۹ ۵۹ - كتاب بدء الخلق وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ فَلَمَّا آوازیں بلند تھیں۔ جب حضرت عمر نے اجازت اسْتَأْذَنَ عُمَرُ قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ مانگی وہ اُٹھ کھڑی ہوئیں اور جلدی سے پردے میں فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہو گئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ فَقَالَ عُمَرُ أَضْحَكَ حضرت عمر نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو ہمیشہ ہنسائے ۔ آپ نے فرمایا: ان عورتوں پر مجھے تعجب آیا اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَجِبْتُ جو میرے پاس تھیں ۔ جب انہوں نے تمہاری آواز مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّائِي كُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سنی، جلدی سے پردے میں ہو گئیں ۔ حضرت عمرؓ نے سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ کہا: یا رسول اللہ ! آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ قَالَ عُمَرُ فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ وہ آپ سے مرعوب ہوتیں۔ اس کے بعد حضرت عمر أَحَقَّ أَنْ يَهَبْنَ ثُمَّ قَالَ أَيْ عَدُوَّاتِ نے کہا: اے اپنی جانوں کی دشمنو! کیا تم مجھ سے ڈرتی أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُوْلَ اللهِ ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں۔ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ نَعَمْ أَنْتَ انہوں نے کہا: ہاں۔ تم بہت اکھڑ سنگ دل ہو۔ أَفَظُ وَأَغْلَظُ مِنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں ۔ رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا فَبًّا إِلَّا سَلَكَ فَبًّا غَيْرَ فَجِّكَ۔ اطرافه: ٣٦٨٣، ٦٠٨٥۔ کے ہاتھ میں میری جان ہے جب کبھی بھی شیطان تم سے کسی راستے میں چلتے ہوئے ملتا ہے، وہ بجائے تمہارے راستے پر چلنے کے کسی اور راستے پر ہو لیتا ہے۔ ٣٢٩٥ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ :۳۲۹۵ : ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوحازم قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ يَزِيدَ کے بیٹے نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یزید ( بن عبداللہ )