صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 104 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 104

صحيح البخاری جلد 4 ۱۰۴ ۵۹ - كتاب بدء الخلق بِهَا أَدْبَرَ فَإِذَا قُضِيَ أَقْبَلَ کے لئے تکبیرا اقامت ہوتی ہے تو وہ پیٹھ موڑ کر چل دیتا حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْإِنْسَانِ وَقَلْبِهِ ہے اور جب تکبیر ہوچکتی ہے تو وہ آجاتا ہے اور آگر فَيَقُوْلُ اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا حَتَّى انسان اور اس کے دل کے درمیان چکر لگاتا ہے اور کہتا لَا يَدْرِيَ أَثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا فَإِذَا ہے فلاں فلاں بات یاد کرو اور اس طرح ) اسے ایسا مشغول رکھتا ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ تین رکعتیں پڑھی لَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَوْ أَرْبَعًا سَجَدَ سَجْدَتَي السَّهْوِ۔اطرافه: ٦٠٨، ۱۲۲۲، ۱۲۳۱، ۱۲۳۲۔ہیں یا چار۔جب وہ نہ جانے کہ میں نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ سہو کے دو سجدے کرلے۔٣٢٨٦: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۳۲۸۶ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے كُل آدَمَ يَطْعُنُ الشَّيْطَانُ فِي فرمایا: آدم کے ہر بیٹے کو جب وہ پیدا ہوتا ہے شیطان جَنْبَيْهِ بِإِصْبَعَيْهِ حِيْنَ يُوْلَدُ غَيْرَ عِیسَی اس کے دونوں پہلوؤں میں اپنی انگلیوں سے کو نچتا ابْنِ مَرْيَمَ ذَهَبَ يَطْعُنُ فَطَعَنَ فِي ہے، سوائے عیسی بن مریم کے۔(انہیں) کو نچنے گیا تھا مگر اس نے بچہ دان کے پردے ہی کو کو نچا۔بني الْحِجَابِ۔اطرافه: ٣٤٣١، ٤٥٤٨۔۳۲۸۷ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۳۲۸۷ : مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيْلُ عَنِ الْمُغِيْرَةِ عَنْ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مغیرہ سے، مغیرہ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَدِمْتُ نے ابراہیم (مخفی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے روایت الشَّأْمَ قَالُوا: أَبُو الدَّرْدَاءِ کی کہ انہوں نے کہا: میں شام میں آیا۔لوگوں نے کہا: قَالَ أَفِيْكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ حضرت ابوالدرداہ کہتے تھے: کیا تم میں وہ شخص تھا اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ جس کو اللہ نے شیطان سے بچائے رکھا؟ جس طرح