صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 97
صحيح البخاري۔جلد ۶ ۹۷ ۵۹ - كتاب بدء الخلق فَرُزِقًا وَلَدًا لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ۔جو تم نے ہمیں عطا فرمانے کا ارادہ کیا ہے تو انہیں ایسا بچہ دیا جائے گا جسے شیطان نے ضرر نہ پہنچایا ہوگا۔اطرافه : ۱٤۱ ، ۳۲۸۳، ٥١٦٥، ٣٨٨، ٧٣٩٦۔٣٢٧٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ۳۲۷۲: محمد بن سلام ) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عمر رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاةَ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج کا اوپر کا کنارہ نکلے تو تم نماز نہ پڑھو جب تک کہ وہ سارا نہ نکل آئے حَتَّى تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ اور جب سورج کا کنارہ ڈوب جائے۔تب بھی تم فَدَعُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيْبَ۔نماز نہ پڑھو جب تک سورج غروب نہ ہو جائے۔طرفه ٥٨٣۔:۳۲۷۳: وَلَا تَحَيَّنُوا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ ۳۲۷۳: اپنی نماز کے لئے سورج نکلنے کا انتظار الشَّمْسِ وَلَا غُرُوْبَهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ نہ کیا کرو اور نہ ہی اس کے ڈوبنے کا۔کیونکہ سورج قَرْنَيْ شَيْطَانٍ أَوِ الشَّيْطَانِ لَا أَدْرِي شيطان کے دوسینگوں کے درمیان سے نکلے گا۔عبدہ نے کہا: میں نہیں جانتا ہشام نے کونسا لفظ کہا أَيَّ ذَلِكَ قَالَ هِشَامٌ۔شیطان یا الشیطان۔اطرافه ،۵۸۲ ،۰۸۰، ۵۸۹، ۱۱۹۲، ۱۹۲۹۔٣٢٧٤: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا :۳۲۷۴ ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ نے ہم سے بیان کیا۔یونس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مُحميد بن ہلال سے، محمید نے ابو صالح سے، ابو صالح أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي قَالَ قَالَ النَّبِيُّ نے حضرت ابو ہر میڈا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ بَيْنَ في صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی ہلے اس جگہ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة کے الفاظ بھی بعض نسخوں میں ملتے ہیں۔(صحیح الإمام البخارى النسخة اليونينية مطبوعہ دار طوق النجاة، جزء۴ صفحه ۱۲۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔