صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 95
صحيح البخاری جلد ٦ ۹۵ ۵۹- كتاب بدء الخلق رِجْلَيَّ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ مَا وَجَعُ میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی الرَّجُلِ فَقَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ طرف۔ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اس شخص کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے جواب دیا۔یہ بیمار وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لِعَائِشَةَ حِيْنَ قَالَ لَبِيْدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَ فِيْمَا ذَا ہے۔اس نے پوچھا: کس نے ( بزعم خویش ) اسے بیمار قَالَ فِي مُشْطِ وَمُشَاقَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ کیا ہے؟ دوسرے نے کہا: لبید بن اعصم (یہودی) ذَكَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِثْرِ ذَرْوَانَ نے اس نے پوچھا: کس چیز سے؟ اس نے جواب دیا: فَخَرَجَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ایک کنگھی میں سر کے بالوں کی گرھیں لگا کر اور نر کھجور کے خشک خوشے میں لپیٹ کر۔اس نے پوچھا: یہ کہاں ہے؟ جواب دیا۔زروان کے کنوئیں میں۔چنانچہ نبی رَجَعَ نَخْلُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِيْنِ ﷺ اس کنوئیں پر گئے اور پھر واپس آئے اور حضرت فَقُلْتُ اسْتَخْرَجْتَهُ فَقَالَ لَا أَمَّا أَنَا عائشہ سے جب آپ لوٹے، فرمایا: اس کنوئیں پر کھجور کے فَقَدْ شَفَانِي اللهُ وَخَشِيْتُ أَنْ يُثِيْر درخت ایسے گھنے تھے جیسے پھیر تھوہر۔میں نے پوچھا: ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا ثُمَّ دُفِنَتِ الْبِتْرُ۔کیا آپ نے لکھی وغیرہ کو نکال لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔مجھے تو اللہ نے شفادے دی ہے اور میں یہ خدشہ بھانپ گیا مبادا یہ بات لوگوں میں شہر بر پا کر دے۔پھر اس کے بعد وہ کنواں (مٹی ڈال کر ) دبا دیا گیا۔اطرافه ٣١٧٥ ٥٧٦٣، ٥٧٦٥، ٥٧٦٦، ٦٠٦٣، ٦٣٩١۔٣٢٦٩: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ۳۲۶۹: اسماعیل بن ابی اولیس نے ہم سے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ کہا: میرے بھائی نے مجھے بتایا۔انہوں نے سلیمان بن عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ بلال سے سلیمان نے یحی بن سعید سے بچی نے سعید الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قَالَ يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ شیطان تم میں سے ایک کے سر کی گدی پر جس وقت وہ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ سو جاتا ہے تین گرہیں لگاتا ہے اور ہر گرہ پر جہاں وہ