صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 94
صحيح البخاری جلد 4 ۹۴ ۵۹- كتاب بدء الخلق يُقَالُ مَرِيدًا (النساء: ۱۱۸) مُتَمَرِّدًا۔کہا جاتا ہے کہ مریدا کے معنی ہیں سرکش۔بنگہ کے بَتْكَهُ قَطَّعَهُ۔وَاسْتَفْزِزُ (بني إسرائيل: ٦٥) معنی ہیں اس کو کاٹ دیا۔وَاسْتَفْزِزُ کے معنی ہیں اسْتَخِفَّ بِخَيْلِكَ (بني إسرائيل: (٦٥) انہیں بھڑکا اور طیش میں لا۔اور بخیلِگی کے معنی ہیں الْفُرْسَانُ۔وَالرَّجْلُ الرَّجَّالَةُ وَاحِدُهَا اپنے سواروں کے ساتھ۔اور الرجی کے معنی ہیں رَاجِلٌ مِثْلُ صَاحِبٍ وَصَحْبِ وَتَاجِرٍ اپنے پیاروں کے ساتھ۔رجل کا مفرد رَاجِلٌ ہے وَ تَجْرٍ لَاَحْتَنِكُنَّ ( بني إسرائيل : ٦٣) جیسے صَاحِب جس کی جمع صحب ہے اور تاجر کی لَأَسْتأْصِلَنَّ قَرِيْنَ (الصافات: ٥٢) جمع تجر ہے۔لَا حُتَنِكُنَّ کے معنی ہیں میں ضرور جڑ سے اُکھاڑ ڈالوں گا۔قرین سے مراد شیطان ہے۔شَيْطَانٌ۔٣٢٦٨: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۳۲۶۸ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عَائِشَةَ رَضِيَ أَخْبَرَنَا عِيْسَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عيسى بن یونس ) نے ہمیں بتایا۔ہشام بن عروہ ) سے عَنْهَا قَالَتْ سُحِرَ مروی ہے۔انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔اللهُ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔وَقَالَ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا۔لیٹ اللَّيْثُ كَتَبَ إِلَيَّ هِشَامٌ أَنَّهُ سَمِعَهُ (بن سعد ) نے بھی کہا: ہشام نے مجھے لکھا کہ انہوں وَوَعَاهُ { عَنْ أَبِيْهِ } عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نے اپنے بالے سے سنا اور اسے یاد رکھا کہ سُحِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ وہ کہتی تھیں: نبی ہے حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ پر جادو کیا گیا۔آپ ( ان ایام میں ) بعض وقت خیال فرماتے تھے کہ آپ نے فلاں کام کر لیا ہے بحالیکہ آپ نے وہ نہ کیا ہوتا۔آخر آپ نے ایک دن دعا پر دعا کی۔پھر آپ نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ فِيْمَا فِيهِ شِفَائِي أَتَانِي رَجُلَانِ فَقَعَدَ اللہ نے مجھے وہ تدبیر بتادی ہے جس میں میری شفا أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالآخَرُ عِنْدَ ہے۔دو شخص میرے پاس آئے، ان میں سے ایک یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۴۰۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔وَمَا يَفْعَلُهُ حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ دَعَا وَدَعَا ثُمَّ قَالَ أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي