صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 93
صحيح البخاری جلد ٦ ۹۳ ۵۹ - كتاب بدء الخلق اس باب کے تحت دس روایتیں ہیں۔ روایت نمبر ۳۲۵۸ تا ۳۲۶۰ کے تعلق میں ملاحظہ ہو کتاب مواقيت الصلاة باب ۹، ۱۰۔ روایت نمبر ۳۰۶۱ تا ۳۰۶۴ سے ظاہر ہے کہ بخار بھی جہنم کی تپش قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں لڑائی اور نفس کی حسرتیں بھی آگ سے تعبیر کی گئی ہیں۔ جیسے فرمایا: كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَاهَا اللهُ (المائدة: ۶۵) جب کبھی انہوں نے جنگ کی آگ سلگائی، اللہ نے اسے بجھا دیا۔ پھر فرمایا: کذلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ * وَمَا هُمْ بِخْرِجِينَ مِنَ النَّارِ ) (البقرة: (۱۶۸) اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال حسرتوں کی صورت میں دکھائے گا اور وہ اس آگ سے ہرگز نہیں نکل سکیں گے۔ نَارُكُمْ جُزْءٌ مِّنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ : روایت نمبر ۳۲۶۵ میں جس انداز ہ کا ذکر وارد ہوا ہے، وہ آج دنیا میں بھی سچا ثابت ہو چکا ہے۔ ایٹم بم ، ہائیڈ روجن بم اور کوبالٹ بم (Cobalt Bomb) کی جہنم خیز افشانی کا اندازہ کریں کہ آنحضرت علی کا قول قطعاً مبالغہ نہیں تھا بالغہ نہیں تھا جیسا کہ بعض کا خیال ہے۔ (فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۰۲) آتش بلکہ یہ بیان امر واقع ہے۔ صلى الله روایت نمبر ۳۲۶۷ کا مضمون خود اس دنیا کے حالات پر بھی صادق آتا ہے اور انہی پر اخروی عذاب کا بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔ عالمگیر جنگ ثانی میں ہیروشیما اور ناگا ساکی (جاپان) کے شہروں میں جو قیامت برپا ہوئی تھی وہ ایسی ہیبت ناک تھی کہ دنیا نے ایسا محشر کبھی نہیں دیکھا۔ سورۃ الج کی آیت ۲۱ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ {اس سے جو کچھ ان کے بیٹوں میں ہے گلا دیا جائے گا اور ان کی جلدیں بھی ۔ } اور سورۃ الرحمن آیت ۴۵ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِیم آن وہ اس کے اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان گھومیں گے۔ } کی واقعاتی تفسیر تھی۔ انتڑیاں ڈھلکنے ا ں ڈھلکنے اور گدھے کی طرح چکر کھانے کے جس عذاب کا ذکر روایت نمبر ۳۲۶۷ میں وارد ہوا ہے، وہ مذکورہ بالا آیات سے ہی ماخوذ معلوم ہوتا ہے اور اس ہولناک عذاب النار کا نمونہ آج منصہ ظہور میں آچکا ہے۔ باب ۱۱ : صِفَةُ إِبْلِيْسَ وَجُنُودِهِ ایلیس اور اس کے لشکروں کے متعلق بیان وَقَالَ مُجَاهِدٌ يُقْذَفُوْنَ (الصافات: (۹) اور مجاہد نے کہا: يُقْذَفُونَ کے معنی ہیں پھینکے جاتے يُرْمَوْنَ۔ دُحُورًا (الصافات : (۱۰) ہیں۔ دَحُورًا کے معنی ہیں دھتکارے ہوئے۔ مَطْرُوْدِيْنَ۔ وَاصِبٌ (الصافات: ۱۰) وَاصِب کے معنی ہیں دائمی ۔ اور حضرت ابن عباس دَائِمٌ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَّدْحُورًا نے کہا: مَدْحُورًا معنی ہیں دھتکارا ہوا۔ (الأعراف: ۱۹) مَطْرُوْدًا۔