صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 80 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 80

صحيح البخارى جلده ۸۰ ۵۵ - كتاب الوصايا تشریح : أَنْ يَتَرَكَ وَرَتَتَهُ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِّنْ أَنْ يَتَكَفَقُوا النَّاسَ : آيت إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصَيَّةُ کی تفسیر حضرت ابن عباس اور مجاہد نے مال کثیر سے کی ہے اور بہت سے فقہاء تابعین اور تبع تابعین ( مجاہد، عطاء اور سعید بن جبیر وغیرہ) نے ان کی تائید کی ہے۔یہ سوال کہ کتنا مال ہو تو وہ قابل وصیت ہوگا ؟ اس کے جواب میں بعض نے آسٹی دینار اور بعض نے تین سو اور چار سو دینار کی مقدار تجویز کی ہے۔ان کے نزدیک خیر کا لفظ اس قدر مال پر اطلاق پاتا ہے۔(عمدۃ القاری شرح کتاب الوصايا، بابا، جزء ۱۴ صفحه ۲۷) مندرجہ بالا روایت کتاب الجنائز باب ۳۶ روایت نمبر ۱۲۹۵ میں مفصل گذر چکی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے کنبہ کو ایسی حالت میں نہ چھوڑا جائے کہ اُس کے افراد پیٹ بھرنے کی خاطر در بدر مارے مارے پھریں۔بعض فقہاء نے یہ استدلال کیا ہے کہ حوائج ضروریہ سے جو مال زیادہ ہو وہ قابل وصیت ہے۔اس تعلق میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی جائیداد کا اندازہ لگایا گیا ہے اور اس اندازے کے تین حصے کنبے کی ضروریات کے لئے الگ کر کے باقی ایک حصہ جائیداد کا قابل صدقہ تھا۔اس پر قیاس کر کے ایک فریق نے اپنے فتوے کی بنیاد رکھی ہے۔مگر ارشادِ نبوی أَنْ تَدَعَ وَرَتَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد کی جائیداد میں ورثاء کا حق تسلیم فرمایا ہے۔اس لئے کسی موصی کو اجازت نہیں کہ وہ ساری جائیداد بطور صدقہ یا کسی اور غرض کے لئے وقف کر کے ورثاء کو ان کے حق سے محروم کر دے۔بعض فقہاء نے جائیداد قابل وصیت کی کوئی تعیین نہیں کی۔اُن کے نزدیک خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ حسب وصیت شرعی ورثاء میں قابل تقسیم ہوگی۔(عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحه ۳۴۰-۳۵) اس تعلق میں کتاب الفرائض ، باب ۶ (مِيرَاتُ الْبَنَاتِ) روایت نمبر ۶۷۳۳ بھی دیکھئے۔لَمْ يَكُن لَّهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا ابْنَةٌ: اَز رو تحقیق حافظ ابن حجر حضرت سعد بن ابی وقاص کی یہ بیٹی ام حکم کبری تھیں۔یہ اُن کی پہلی بیوی سے تھیں جو شہاب بن عبداللہ بن حارث کی بیٹی تھیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص نے بہت لمبی عمر پائی۔انہوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں اور اولاد ہوئی۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۵۱) بَاب ٣ : الْوَصِيَّةُ بِالثُّلُثِ تہائی مال کی وصیت کرنا وَقَالَ الْحَسَنُ لَا يَجُوْزُ لِلدِّمِّي وَصِيَّةٌ اور حسن (بصری) نے کہا: ذمی کی وصیت بھی إِلَّا الثَّلُثَ وَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَآنِ تہائی مال کے سوا نافذ نہ ہوگی اور اللہ عزوجل نے احُكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فرمایا ہے: اللہ نے جو ( کلام) نازل کیا ہے اُسی کے (المائده (۵۰) مطابق تو اُن کے درمیان فیصلہ کر۔٢٧٤٣: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۲۷۴۳ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان