صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 81 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 81

صحيح البخاری جلد۵ Al ۵۵ - كتاب الوصايا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْن عُرْوَةَ عَنْ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سے ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت قَالَ لَوْ غَضَّ النَّاسُ إِلَى الرُّبْعِ لِأَنَّ ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ الرَ لوگ ( تہائی سے بھی کچھ کم یعنی چوتھائی حصہ مال رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کی وصیت کریں ( تو بہتر ہے۔کیونکہ رسول اللہ علی الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ { أَوْ كَبِيرٌ } نے ارشاد فرمایا ہے: تہائی کی وصیت کرو اور تہائی بھی بہت ہے، یا یہ ( فرمایا ) کہ تہائی بڑا حصہ ہے جی ٢٧٤٤: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ۲۷۴۴ محمد بن عبدالرحیم نے مجھ سے بیان کیا کہ ذکریا بن عَبْدِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عدی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا کہ مروان (بن معاویہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہاشم بن ہاشم سے، ہاشم نے عامر رضي عَدِي حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ هَاشِمِ بْنِ بن سعد سے، انہوں نے اپنے باپ (حضرت سعد بن ابی هَاشِمٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ وَقَاسِ) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں بیمار اللهُ عَنْهُ قَالَ مَرِضْتُ فَعَادَنِي ہو گیا تو بی اے میری بیمار پرسی کیلئے تشریف لائے۔میں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اُلٹے يَا رَسُوْلَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ لَّا يَرُدَّنِي پاؤں واپس نہ کرے۔(یعنی مکہ میں نہ مارے۔) آپ نے فرمایا: امید ہے کہ اللہ تمہیں (اس بیماری سے صحت عَلَى عَقِبِي قَالَ لَعَلَّ اللَّهَ يَرْفَعُكَ وَيَنْفَعُ دے کر اُٹھائے گا اور تمہارے ذریعہ کچھ لوگوں کو فائدہ بِكَ نَاسًا قُلْتُ أُرِيدُ أَنْ أُوْصِيَ پہنچائے گا۔میں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ وصیت کروں وَإِنَّمَا لِي ابْنَةٌ قُلْتُ أُوصِي بِالنِّصْفِ اور میری صرف ایک ہی بیٹی ہے۔میں نے کہا: میں نصف قَالَ النِّصْفُ كَثِیرٌ قُلْتُ فَالثُّلُثِ کی وصیت کرنا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا: نصف تو قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَو بہت ہے۔میں نے عرض کی: اچھا تہائی کی کروں؟ فرمایا : تہائی سہی اور تہائی بھی بہت ہے۔راوی کو شک كَبِيرٌ ۚ قَالَ فَأَوْصَى النَّاسُ بِالثُّلُثِ ہے کہ مفہوم بہت کیلئے حضور ﷺ نے لفظ کثیر استعمال فَجَازَ ذَلِكَ لَهُمْ۔فرمایا یا گبیر ) حضرت سعد کہتے تھے : پھر لوگ تہائی کی وصیت کرنے لگے اور یہ اُن کیلئے جائز ہو گیا۔اطرافه ٥٦، ۱۲٩٥، ۲۷٤۲، ۳۹۳۶، ٤٤۰۹، ٥٣٥٤ ٥٦٥٩، ٥٦٦٨، ٦٣٧٣، ٦٧٣٣۔الفاظ او كَبِير عمدۃ القاری کے متن کے مطابق ہیں۔(عمدۃ القاری جز ۱۴۶ صفحہ ۳۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔