صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 81
صحیح البخاری جلد ۵ AM ۵۵- كتاب الوصايا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ہے ، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت قَالَ لَوْ غَضَّ النَّاسُ إِلَى الرُّبْعِ لِأَنَّ ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ ( تہائی سے بھی کچھ کم یعنی ) چوتھائی حصہ مال رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کی وصیت کریں ( تو بہتر ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ {أَوْ كَبِيرٌ } ۔ نے ارشاد فرمایا ہے: تہائی کی وصیت کرو اور تہائی بھی بہت ہے، یا یہ (فرمایا ) کہ تہائی بڑا حصہ ہے کی ٢٧٤٤ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ۲۷۴۴ محمد بن عبدالرحیم نے مجھ سے بیان کیا کہ ذکر یا بن عَبْدِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ مروان (بن معاویہ ) عَدِي حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ هَاشِمِ بْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہاشم بن ہاشم سے، ہاشم نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے باپ (حضرت سعد بن ابی هَاشِمٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ وقاص ) ان سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں بیمار صلى الله رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مَرِضْتُ فَعَادَنِي ہوگیا تو بی ﷺ میری بیمار پرسی کیلئے تشریف لائے۔ میں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اُلٹے يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللهَ أَنْ لَّا يَرُدَّنِي پاؤں واپس نہ کرے۔ (یعنی مکہ میں نہ مارے۔) آپ نے فرمایا: امید ہے کہ اللہ تمہیں (اس بیماری سے صحت عَلَى عَقِبِي قَالَ لَعَلَّ اللَّهَ يَرْفَعُكَ وَيَنْفَعُ دے کر ) اُٹھائے گا اور تمہارے ذریعہ کچھ لوگوں کو فائدہ بِكَ نَاسًا قُلْتُ أُرِيدُ أَنْ أُوْصِيَ پہنچائے گا۔ میں نے کہا، میں چاہتا ہوں کہ وصیت کروں وَإِنَّمَا لِي ابْنَةٌ قُلْتُ أُوْصِي بِالنِّصْفِ اور میری صرف ایک ہی بیٹی ہے۔ میں نے کہا: میں نصف قَالَ النِّصْفُ كَثِيرٌ قُلْتُ فَالثُلُثِ کی وصیت کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: نصف تو بہت ہے۔ میں نے عرض کی: اچھا تہائی کی کروں؟ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ فرمایا: تہائی سہی اور تہائی بھی بہت ہے۔ (راوی کوشک صلى الله كَبِيْرٌ قَالَ فَأَوْصَى النَّاسُ بِالثُّلُثِ ہے کہ مفہوم بہت کیلئے حضور ﷺ نے لفظ کثیر استعمال فَجَازَ ذَلِكَ لَهُمْ۔ فرمایا یا کبیر ) حضرت سعد کہتے تھے: پھر لوگ تہائی کی وصیت کرنے لگے اور یہ ان کیلئے جائز ہو گیا۔ اطرافه: ٥٦، ١٢٩٥، ٢٧٤٢، ۳۹٣٦، ٤٤٠۹، ٥٣٥٤ ، ٥٦٥٩، ٥٦٦٨، 6373، 6733۔ الفاظ او كَبِيرٌ » عمدۃ القاری کے متن کے مطابق ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۴۶ صفحہ ۳۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔