صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 79 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 79

صحيح البخاری جلده ۷۹ صلى الله ۵۵- كتاب الوصايا بَاب ٢ : أَنْ يَتْرُكَ وَرَثَتَهُ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَتَكَفَّفُوْا النَّاسَ اپنے وارثوں کو دولت مند چھوڑنا بہتر ہے اس سے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ٢٧٤٢ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۲۷۴۲: ابو نعیم نے ہم سے بیا ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہم سے سفیان سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرٍ (بن عیینہ ) نے بیان کیا۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم ابْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصٍ سے، سعد نے عامر بن سعد امر بن سعد سے اور عامر ، اور عامر نے حضرت رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں دت کے لئے آئے۔ اُن صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا بِمَكَّةَ نے کہا کہ ہی میری عیادت کے دنوں میں مکہ میں تھا اور آپ ناپسند فرماتے تھے کہ وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوْتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي کوئی اُس زمین میں فوت ہو جس سے وہ ہجرت کر چکا هَاجَرَ مِنْهَا قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ عَفْرَاءَ ہو۔ آپ نے فرمایا: اللہ عفراء کے بیٹے پر رحم کرے۔ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ أُوْصِي بِمَالِي كُلِّهِ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا میں اپنے سارے مال کی قَالَ لَا قُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ لَا قُلْتُ وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: الثُلُثُ قَالَ فَالثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ آدھا ۔ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: تہائی۔ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ آپ نے فرمایا: تہائی سہی اور تہائی بھی بہت ہے۔ تم تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُوْنَ النَّاسَ فِي اگر اپنے وارثوں کو دولت مند چھوڑو تو یہ اس سے بہتر وہ لوگوں کے سامنے أَيْدِيهِمْ وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ مِنْ نَّفَقَةِ ہے کہ تم ان کو ایسا محتاج چھوڑو کہ وہ لوگوں اپنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور جو خرچ بھی تم کرو گے فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةُ الَّتِي تَرْفَعُهَا تو وہ صدقہ ہی ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تم اُٹھا کر إِلَى فِي امْرَأَتِكَ وَعَسَى اللَّهُ أَنْ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو ( وہ بھی صدقہ ہی ہے۔) يَرْفَعَكَ فَيَنْتَفِعَ بِكَ نَاسٌ وَيُضَرَّ بِكَ اور عین ممکن ہے کہ اللہ تمہیں اس بیماری سے صحت آخَرُوْنَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا ابْنَةٌ۔ دے کر اُٹھائے اور بعض لوگ تم سے فائدہ حاصل کریں اور بعض کو تمہاری وجہ سے نقصان پہنچے۔ اور اُن دنوں حضرت سعد کی صرف ایک ہی بیٹی تھی ۔ اطرافه: ٥٦، ١٢٩٥، ٢٧٤٤، ۳۹٣٦ ، ٤٤٠۹، ٥٣٥٤ ، ٥٦٥٩، ٥٦٦٨، 6373، 6733