صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 78
صحيح البخاری جلده ۷۸ ۵۵- كتاب الوصايا فوت ہو جائے تو جمہور کے نزدیک وصیت باطل ہو جاتی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے بداية المجتهد، كتاب الوصايا، القول في الأركان، جزء ثانی صفحه ۲۵۰-۲۵۱ - فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۳۷ - عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحه ۲۶-۲۷۔ کتاب الوصایا میں وصیت کے متعلق احکام کی تفصیل پیش کرنے سے قبل قرآن مجید کی محولہ بالا آیت بطور تمہید پیش کی گئی ہے اور لفظ جنف اور مُتَجَائِفٌ کی لغوی تشرح کر کے بتایا ہے کہ فقہاء کے اختلاف کا حل خود قرآن مجید میں موجود ہے۔ اس کے منشاء سے ادھر اُدھر ہونا درست نہیں۔ اس کی تشریح کے لئے تفسیر کبیر - تفسیر سورۃ البقرہ، جلد دوم صفحه ۳۶۵ تا ۳۷۰ مصنفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ دیکھئے۔ محولہ بالا حدیث اور آیت کے تحت چار روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ پہلی روایت کا تعلق وجوب وصیت سے ہے اور دوسری کا تَرَكَ خَيْرًا کی تفسیر سے کہ وصیت اس صورت میں لازم ہے کہ جب مرنے والے کی قابل وصیت جائیداد موجود ہو۔ خَيْرًا سے مراد ہے بہت مال، جیسا کہ تفسیر کبیر میں وضاحت کی گئی ہے اور تیسری روایت سے اس شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے کہ جب قرآن مجید میں ورثاء کے حصص بیان کر دیئے گئے ہیں تو پھر وصیت کرنے کے کیا معنی ۔ گویا اس طرف توجہ دلائی کہ موصی احکام وصیت کے مطابق اپنی جائیداد ورثاء کے درمیان تقسیم کر کے اپنی وصیت کا اعلان کر دے تا اُن کے درمیان جھگڑا نہ ہو۔ چوتھی روایت سے اس قسم کے تنازعات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ عہد اول میں ہی صحاب ا صحابہ کرام نے فیصلہ کر دیا تھا کہ حضرت علی کی خلافت وغیرہ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت نہیں کی۔ فقہاء نے وصیت کے چار رکن قرار دیئے ہیں: ◇ ◇ موسی قابل وصیت مال ◇ ☆ وصی (جس کے حق میں وصیت کی جائے ) وصیت منصوصه مذکورہ بالا چار روایتوں میں ان چاروں ارکان سے متعلق اجمالی ہدایات موجود ہیں۔ یعنی وصیت ضبط تحریر میں ہو۔ جس میں قابل وصیت جائیداد کی تقسیم حسب ہدایات شریعت ورثاء کے لئے معین ہونی چاہیے تا کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو۔ وصی الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ : اِن الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ موصی ہونے کے لحاظ سے مسلم، غیر مسلم، ذمی اور حربی سبھی شامل ہیں۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۳۸) نیز از روئے شریعت اسلامیہ کوئی وارث مذہبی اختلاف کی وجہ سے حق وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔